خوراک کی تقسیم میں کٹوتیوں کے باعث افغانستان میں بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے: اقوام متحدہ
ڈبلیو ایف پی کے مطابق امداد میں کمی کے باعث 2025 کے دوران ’142 صحت مراکز بند‘ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 13 ہزار سے زائد بچےغذائی علاج کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے کہا ہے کہ افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے، اور خدشہ ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خوراک کی تقسیم اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں کٹوتی سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغانستان میں ڈبلیو ایف پی کے کنٹری ڈائریکٹر جان ایلیف نے ایک بیان میں کہا کہ ’بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات کو روکنے کے لیے ہمیں فوری اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ یہ بحران ان اموات کا سبب بن رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’بدقسمتی سے بہت سے بچوں کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘
افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری جنگوں اور سیاسی عدم استحکام کے اثرات سے اب بھی سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں 2021 میں امریکی افواج کا افراتفری کے عالم میں انخلا اور طالبان کا اقتدار سنبھالنا بھی شامل ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد کی ترجمان اولگا چیریوکو نے کہا کہ غذائیت کے ماہرین کے مطابق ’اس سال ملک کے تین چوتھائی سے زائد علاقوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت مزید بڑھ گئی ہے۔‘
’اس کیفیت میں مبتلا بچے انتہائی کمزور اور اپنی عمر و قد کے لحاظ سے بہت دبلے ہو جاتے ہیں، اور انہیں فوری طور پر خصوصی غذائی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
چیریوکو نے افغانستان سے ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں کو بتایا کہ ’بہت زیادہ بچے شدید غذائی قلت کی حالت میں صحت کے مراکز تک پہنچتے ہیں، جبکہ کئی بچے وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں اور مہینوں میں انہوں نے افغانستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق امداد میں کمی کے باعث 2025 کے دوران ’142 صحت مراکز بند‘ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 13 ہزار سے زائد بچےغذائی علاج کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کسی مخصوص ڈونر مثلاً امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے اندازے کے مطابق اس سال افغانستان میں 37 لاکھ (3.7 ملین) بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے، جبکہ 12 لاکھ (1.2 ملین) حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی اس مسئلے سے متاثر ہوں گی۔
ادارے نے بتایا کہ افغانستان کے 12 صوبے بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشویشناک سطح تک پہنچ چکے ہیں، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کی وجوہات میں جنگ، بے روزگاری، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بیماریوں کے پھیلاؤ، صاف پانی اور صفائی کی ناقص سہولیات، اور انسانی امداد کے لیے فنڈنگ میں کمی شامل ہیں۔
ایران جنگ اور دیگر جھڑپوں نے امدادی سامان کی ترسیل متاثر کی
ڈبلیو ایف پی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور پاکستان کی سرحد نو ماہ تک بند رہنے کے باعث غذائیت سے متعلق امدادی سامان کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ غذائی قلت کا شکار خواتین اور بچے گزشتہ پانچ ماہ سے ضروری غذائی خدمات سے محروم ہیں۔