راجستھان کے ضلع جیسلمیر سے تعلق رکھنے اور اونٹ پالنے والے سومیر سنگھ بھاٹی ہر سال اپنے ریوڑ کو سکڑتا ہوا دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک دہائی قبل ان کے پاس 300 سے زائد اونٹ تھے، جو اب کم ہو کر 200 سے بھی کم رہ گئے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے ایک ہمسائے کے پاس کبھی 500 اونٹ ہوا کرتے تھے، اب صرف 50 باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے بقول صحرائی زندگی اور مقامی معیشت کی شناخت سمجھے جانے والے یہ جانور آہستہ آہستہ منظر سے غائب ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے مسلمان اونٹ بان آسٹریلیا کیسے پہنچے؟Node ID: 905868
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کی شمال مغربی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر میں صدیوں سے زندگی اور معیشت کی علامت سمجھے جانے والے اونٹ تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
چرواہوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں راجستھانی اونٹ ماضی کا قصہ بن سکتے ہیں۔
صحرائے تھر کو صدیوں سے جنوبی ایشیا میں اونٹ پالنے کے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’صحرا کا جہاز‘ کہلانے والے یہ جانور نقل و حمل، کھیتی باڑی اور تجارت کا بنیادی ذریعہ رہے ہیں اور لاکھوں افراد کی روزی روٹی انہی سے وابستہ رہی ہے۔
تاہم جدید ذرائع آمد و رفت، بدلتے معاشی حالات اور نوجوان نسل کی کم ہوتی دلچسپی نے اس روایتی پیشے کو شدید متاثر کیا ہے۔
سومیر سنگھ بھاٹی نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ان کے اپنے دونوں بچے بھی اس پیشے کو جاری رکھنے کے خواہش مند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے بچے اپنے مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ جب تک میں زندہ ہوں ان اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا رہوں گا مگر میرے بعد یہ ہمارے گھر میں نہیں رہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بہت فکر ہے۔ ہماری کئی نسلوں کا گزر بسر انہی اونٹوں سے ہوتا رہا۔ انہوں نے ہمیں روزگار بھی دیا اور ہماری شناخت بھی بنے رہے۔‘
راجستھان میں انڈیا کے بیشتر اونٹ پائے جاتے ہیں تاہم ریاستی محکمہ حیوانات کے اعداد و شمار کے مطابق 2012 میں اونٹوں کی تعداد تقریباً سات لاکھ 46 ہزار تھی، جو 2025 تک کم ہو کر تقریباً دو لاکھ 13 ہزار رہ گئی۔ یعنی صرف ایک دہائی میں ان کی تعداد میں تقریباً 70 فیصد کمی آ چکی ہے۔
جیسلمیر جو کبھی اونٹوں کی افزائش کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، اب وہاں صرف 32 ہزار کے لگ بھگ اونٹ باقی رہ گئے ہیں۔

’اونٹ کی معاشی اہمیت ختم ہو گئی‘
گرو گوبند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی کے جنگلی حیات کے ماہر ڈاکٹر سمیت دوکیا کے مطابق اس زوال کی کئی وجوہات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے خاندان کے پاس بھی 1990 کی دہائی تک 500 سے 700 اونٹ تھے، آج ایک بھی نہیں بچا۔
انہوں نے کہا کہ ’آج کوئی اونٹ گاڑی میں سفر کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ اس کے متبادل موجود ہیں۔ کھیتی باڑی میں بھی اب اونٹ استعمال نہیں ہوتے، اس لیے ان کی معاشی اہمیت بہت کم ہو گئی ہے۔ اب ایک اونٹ بھیڑ یا بکری کی قیمت میں خریدا جا سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر دوکیا کے مطابق اونٹ بڑے جسم والا جانور ہے، جسے روزانہ کھلے میدانوں میں طویل فاصلے تک چلنے اور چرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے باڑے میں بند رکھ کر پالنا نہ صرف مشکل بلکہ اس کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

چرنے کی زمین بھی سکڑ گئی
ماہرین کے مطابق ایک اور بڑا مسئلہ چراگاہوں کا خاتمہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مغربی راجستھان میں لوگوں نے اپنی زمینوں کے گرد باڑیں لگانا شروع کر دی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں زرعی اراضی کو شمسی توانائی کے منصوبوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
خاص طور پر جیسلمیر میں سولر پارکس اب صحرا کے منظرنامے پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر دوکیا کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے پاس 10 سے زیادہ اونٹ ہوں تو انہیں ایک جگہ رکھنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے انہیں کھلے میدانوں میں چرانا پڑتا ہے مگر مغربی راجستھان میں ایسی کھلی زمین اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
قانون بھی ایک رکاوٹ بن گیا
2015 میں راجستھان حکومت نے اونٹوں کے ذبیحے اور غیرقانونی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے ایک قانون نافذ کیا تھا تاکہ اس جانور کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
تاہم اونٹ پالنے والوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد اونٹوں کی خرید و فروخت اور ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک منتقلی بھی پیچیدہ سرکاری کارروائیوں سے مشروط ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ میلوں میں اونٹ لے جانے کے لیے بھی خصوصی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے جبکہ خریدار کو بھی رجسٹریشن کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر دوکیا کے مطابق ’2015 سے 2026 کے دوران اونٹ پالنے کی معیشت مکمل طور پر بدل چکی ہے اور یہ پیشہ ضرورت سے زیادہ سرکاری ضابطوں کی نذر ہو گیا ہے۔‘

جیسلمیر میں محکمہ حیوانات کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر امیش وارگنتیوار کا کہنا ہے کہ یہ قانون اونٹوں کی تیزی سے کم ہوتی تعداد کے پیش نظر نافذ کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق قانون کے بعد اونٹوں کو ذبیحے کے لیے دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ کم ہوا ہے، جس سے ان کی تعداد میں کمی کی رفتار بھی سست پڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت ہر نومولود اونٹ کے بچے پر پالنے والے کو 20 ہزار انڈین روپے کی مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی چرواہے کے ہاں پانچ اونٹ کے بچے پیدا ہوں تو اسے ایک لاکھ روپے ملتے ہیں، جس سے جانوروں کی مناسب دیکھ بھال ممکن ہو جاتی ہے۔

’اونٹوں کے لیے بھی ٹائیگر ریزرو جیسا تحفظ چاہیے‘
تاہم جیسلمیر کے اونٹ پالنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں۔ ان کے مطابق اگر چراگاہیں ختم ہوتی رہیں اور مناسب سہولتیں فراہم نہ کی گئیں تو راجستھان کے اونٹ مستقبل میں صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائیں گے۔
سومیر سنگھ بھاٹی کہتے ہیں کہ ’سب سے بڑا مسئلہ انہیں رکھنے کے لیے جگہ کا ہے، خوراک کی بھی شدید کمی ہے۔ جس طرح شیروں کے لیے ٹائیگر ریزرو قائم کیے گئے ہیں، اسی طرح اونٹوں کے لیے بھی محفوظ علاقے بننے چاہییں تاکہ انہیں مناسب خوراک اور رہائش مل سکے۔ ان کے علاج کے لیے خصوصی ہسپتال بھی قائم کیے جائیں۔‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے واقعی ڈر ہے کہ راجستھان سے اونٹ بہت تیزی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔‘












