Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جانے کی کوشش میں صحرا میں لاپتا ہونے والے 14 افغان شہری مردہ پائے گئے

صوبہ نیمروز افغانستان کے گرم ترین اور خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کے جنوب مغربی صوبے نیمروز میں ایران جانے کی کوشش کے دوران لاپتا ہونے والے 14 افغان شہریوں کی لاشیں صحرا سے برآمد ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق ان کی گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی جس کے بعد وہ شدید گرمی میں پیدل سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے سنیچر کو بتایا کہ متاثرہ افراد کی تلاش اس وقت شروع ہوئی جب گاڑی کا ڈرائیور شدید پیاس اور نقاہت کی حالت میں نیمروز کے ایک گاؤں پہنچا اور مدد طلب کی۔
ابتدائی تلاش کے دوران پانچ افراد کی لاشیں مل گئی تھیں جبکہ باقی 14 افراد، جنہوں نے پیدل سفر جاری رکھا تھا، لاپتا تھے۔
صوبہ نیمروز افغانستان کے گرم ترین اور خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سال کے اس حصے میں درجہ حرارت عموماً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
نیمروز کے صوبائی ہسپتال کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ لاپتا افراد کی لاشیں سنیچر کو ریت میں دبی ہوئی حالت میں ملیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان عبدالمتوکل توحیدی نے جمعے کو اس واقعے کی تصدیق کی تھی۔
مشرقی صوبے بادغیس کے علاقے قولغی کے رہائشی عبدالخالق نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ 14 نوجوان ہمارے گاؤں کے رہنے والے تھے۔ وہ 23 روز قبل روزگار کی تلاش میں گھر سے روانہ ہوئے تھے، آج ہم ان کی میتیں وصول کر رہے ہیں۔‘
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی اے کو جاری بیان میں کہا کہ حکومت انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران طویل عرصے سے ایسے افغان شہریوں کی اہم منزل رہا ہے جو اپنے ملک میں محدود معاشی مواقع کے باعث روزگار کی تلاش میں سرحد پار کرتے ہیں۔ تاہم قانونی ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے بہت سے افراد انسانی سمگلروں کے ذریعے غیرقانونی اور انتہائی خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
افغانستان اور ایران کے درمیان سرحدی علاقے گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں جان لیوا سرد موسم کے باعث مہاجرین کے لیے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں بھی ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران شدید سردی کے باعث کم از کم 18 افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے، جن میں 15 سالہ ایک لڑکا بھی شامل تھا۔

شیئر: