Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس میں شدید گرمی کی لہر: ہلاکتوں میں 30 فیصد اضافہ، حکومت کو تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا

پیر کو پارلیمان میں حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا امکان ہے (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران ملک بھر میں اموات کی شرح میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پبلک ہیلتھ فرانس کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں جب گرمی اپنے عروج پر تھی، پیرس اور اس کے گردونواح میں اموات کی تعداد میں 62 فیصد تک تشویش ناک اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح کا رجحان مغربی خطے ’پے ڈی لا لوار‘ میں بھی سامنے آیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
سیاسی بحران اور پارلیمان میں ہنگامہ آرائی
دوسری جانب گرمی کی اس شدید لہر سے نمٹنے میں ناکامی پر وزیرِاعظم سیبسٹین لیکورنو کی حکومت کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
پیر کو پارلیمان میں حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا امکان ہے۔
جون کے مہینے میں فرانس کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر گیا تھا جس نے روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
شدید گرمی کے باعث سکولوں کو بند کرنا پڑا جبکہ ٹرین سروسز بھی معطل ہوئیں۔
پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق ’پچھلے ہفتے کے مقابلے میں اموات میں 29.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو کہ 2025 اضافی اموات کے برابر ہے۔ تاہم یہ تعداد ممکنہ طور پر اصل حقائق سے کم ہو سکتی ہے۔‘
معمر افراد اور گھروں میں ہونے والی اموات
رپورٹ کے مطابق اموات کا یہ اضافہ زیادہ تر 45 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد میں دیکھا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ 45 سے 64 سال کی عمر کے لوگوں میں ہلاکتوں کی شرح بڑھی ہے لیکن سب سے بڑا حصہ 65 برس سے زائد عمر کے معمر افراد کا ہے۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ گھروں پر ہونے والی اموات کی تعداد محض ایک ہفتے میں قریباً دگنی ہو گئی ہے۔

اگرچہ اس سال جون کی گرمی شدت کے لحاظ سے کہیں زیادہ تھی لیکن اس کے اثرات 2003 جیسے تباہ کن نہیں ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وزیرِاعظم سیبسٹین لیکورنو نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے اندر ہلاک ہوئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں اور بعض سیاست دانوں کا موقف ہے کہ حکومت بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
کیا یہ 2003 کی تباہ کن گرمی جیسا ہے؟
سال 2003 میں فرانس کو ایک تاریخی اور شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں قریباً 15000 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جن میں بڑی تعداد اولڈ ایج ہومز (نرسنگ ہومز) میں مقیم معمر افراد کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سال جون کی گرمی شدت کے لحاظ سے کہیں زیادہ تھی لیکن اس کے اثرات 2003 جیسے تباہ کن نہیں ہیں۔
وزیرِ صحت اسٹیفنی رسٹ نے جمعے کو گفتگو کرتے ہوئے کہا ’حالات کا موازنہ 2003 کی صورتحال سے نہیں کیا جا سکتا۔‘

فرانس کو رواں سال مئی کے مہینے میں بھی وقت سے پہلے شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پیرس کے پبلک اسپتال سسٹم کے ڈائریکٹر جنرل نکولس ریول کے مطابق ’توقع ہے کہ اموات کی تعداد 2003 سے کم رہے گی لیکن یہ گزشتہ سال کی گرمی کی لہر سے ’ممکنہ طور پر‘ زیادہ ہو گی جس میں 5700 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔‘
اس دوران ماحول دوست ’گرینز پارٹی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ جون کی اس گرمی سے فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے تاہم وزیرِاعظم لیکورنو نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانس کو رواں سال مئی کے مہینے میں بھی وقت سے پہلے شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بارے میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران توقع سے 300 سے زائد زائد اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

شیئر: