Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی کوریا نے سمندر کی طرف بیلسٹک میزائل داغ دیے، جنوبی کوریا کو تشویش

شمالی کورین رہنما کِم جونگ اُن جنوبی کوریا کو ملک کے لیے سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر کی طرف بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں جو رواں سال شمالی کوریا کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کے مظاہرے کے سلسلے کی نئی کڑی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا کہنا ہے کہ منگل کو سمندر کی طرف کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ساحلی شہر جونگجو سے چلائے گئے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کی فوج نے نگرانی کے طریقہ کار کو مزید فعال بنایا ہے اور شمالی کوریا کی کارروائی کے بارے میں امریکہ اور جاپان کے ساتھ معلومات کو شئیر کیا جا رہا ہے۔
یہ 19 اپریل کے بعد سے شمالی کی پہلی ہتھیاروں کی لانچنگ کی تقریب تھی جب کم فاصلے تک مار کرنے والے متعدد میزائل چلائے گئے تھے اور سرکاری میڈیا نے اس کو کلسٹر وار ہیڈز کا مظاہرہ قرار دیا تھا۔
شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے 2019 میں امریکہ کے ساتھ جوہری سفارت کاری ختم ہونے کے بعد سے اپنی توجہ ہتھیاروں کو بڑھانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جوہری سفارت کاری کا خاتمہ بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں ہوا تھا اور اس وقت بھی وہ ملک کے صدر ہیں اور انہوں نے دوبارہ کِم جونگ اُن کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کئی بار کیا ہے۔
تاہم دوسری جانب پیانگ یانگ کی جانب سے اس معاملے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور واشنگٹن نے زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے شمالی کوریا کو جوہری طور پر غیرمسلح کرنے جیسی پیشگی شرائط کا سلسلہ بند کرے۔
کم جونگ اُن جنوبی کوریا کے حوالے سے کافی سخت موقف رکھتے ہیں اور اس کو اپنے ملک کا مستقل اور سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہیں اور اس سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر رکھے ہیں۔
شمالی کوریا کی کارروائی سے قبل منگل کو جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کابینہ کے اجلاس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈرونز کی صلاحیت رکھنے والے آلات کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز کا حصول بھی ضروری ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر جنوبی کوریا کی واشنگٹن کے ساتھ مسلسل بات چیت ہوتی رہی ہے۔
لی جے میونگ جو ایک لبرل شخصیت کے مالک اور شمالی کوریا کے ساتھ بہتر تعلقات کے حامی ہیں، نے شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ایسے جنوبی کوریا کی اہمیت پر زور دیا جو ’خود اپنی سلامتی کی ذمہ داری لے اور حفاظت کا عزم‘ کرے۔
ان کے مطابق اس طرح کا انداز امریکہ کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرے گا۔

شیئر: