Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پڑھو خیبرپختونخوا منصوبہ‘،کیا اب صوبے میں روایتی اساتذہ کی جگہ اے آئی کریکٹرز بچوں کو پڑھائیں گے؟

مصنوعی ذہانت اور اساتذہ کی مشترکہ معاونت سے ہر طالب علم کی استعداد کے مطابق تعلیم فراہم کی جائے گی (فوٹو: دی فرائیڈے ٹائمز)
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت نے صوبے کے تعلیمی نظام میں ’ڈیجیٹل انقلاب‘ لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صوبے کا نصاب ڈیجیٹلائز کیا جائے گا جس کے بعد یہ طلبا کے لیے موبائل فون پر بھی دستیاب ہو گا جبکہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے روایتی اساتذہ کی بجائے ہیومن کلونز یا اساتذہ کے کریکٹرز آن لائن یا آف لائن پڑھائیں گے جس کے لیے ’گلوبل ورچوئل سکول‘ بھی قائم کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِصدارت ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ’پڑھو خیبرپختونخوا‘ منصوبے کے تحت طلبا انٹرنیٹ کے بغیر کسی بھی وقت اور اپنی سہولت کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق اِن ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات پر 5 ارب روپے کی ایک بار کی سرمایہ کاری سے سالانہ 100 ارب روپے سے زیادہ کی بچت ممکن ہوگی جبکہ صوبے کے 90 فیصد گھرانوں میں موجود سمارٹ فونز کو تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے 50 سے زیادہ سکولوں میں آن لائن تدریس کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ اگست کے آخر تک 500 سکول ورچوئل لرننگ سے منسلک ہو جائیں گے۔
ورچوئل لرننگ نظام میں سائنس کی جدید ورچوئل لیبارٹریز کے ساتھ ساتھ چینی، کوریائی، فرانسیسی، عربی، ہسپانوی اور انگریزی سمیت غیر ملکی زبانوں کی تدریس بھی شامل کی جائے گی جبکہ اُردو، انگریزی اور پشتو میں بھی ڈیجیٹل تدریس متعارف کرائی جائے گی۔
ورچوئل سکول دو شفٹوں میں کام کریں گے اور ایشیائی و یورپی ٹائم زونز کے مطابق کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اساتذہ کی مشترکہ معاونت سے ہر طالب علم کی استعداد کے مطابق ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کی جائے گی اور تدریس، امتحانات، اسائنمنٹس، اٹینڈنس اور تعلیمی نگرانی کا نظام ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا۔
’ہیومن کلونز‘ کے ذریعے تدریس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے فوکل پرسن یار محمد نے منصوبے کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پڑھو خیبرپختونخوا‘ منصوبہ مختلف مراحل میں مکمل ہوگا جس کے پہلے مرحلے میں ’گلوبل ورچوئل سکول‘ قائم کیا گیا ہے۔

ورچوئل سکول دو شفٹوں میں کام کریں گے اور ایشیائی و یورپی ٹائم زونز کے مطابق کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا (فوٹو: خیبرپختونخوا حکومت)

ان کے مطابق، چھٹی سے بارہویں جماعت تک نصاب کے 2900 ماڈیولز تیار کیے جا چکے ہیں جن کے لیے ورچوئل کلاس رومز اور سائنس لیبز بنائی گئی ہیں جبکہ پشاور کے علاقے گلبہار میں ایک عمارت ریکارڈ تین ماہ کی مدت میں مکمل کی گئی ہے جہاں یہ تمام سہولیات موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس منصوبے کا سب سے نمایاں پہلو 'ہیومن کلونز' کی تیاری ہے اور پشاور کے ایک مشہور استاد کے چہرے اور آواز کے ساتھ ورچوئل کلونز تیار کیے گئے ہیں جو کیمبرج اور سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی پڑھا چکے ہیں جنہیں 2900 ماڈیولز یاد ہیں اور فزکس، ریاضی، اُردو سمیت تمام مضامین یہی کلونز پڑھا رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’طلبا ان کلونز سے باقاعدہ سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں اور جواب حاصل کر سکتے ہیں۔‘
یار محمد کے مطابق، اِس اقدام کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ باجوڑ، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور بنوں جیسے دور دراز علاقوں میں اساتذہ خصوصاً سائنس ٹیچرز دستیاب نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اِن علاقوں کے سکولوں میں سکرینز، کیمرے، مائیک، انٹرنیٹ اور ساؤنڈ سسٹم سے لیس ایک کمرہ مختص کیا گیا ہے جہاں گلبہار کے ورچوئل سکول سے براہِ راست کلاس لی جاتی ہے۔‘
اُن کے مطابق، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں یہ کورسز آف لائن بھی موجود ہوں گے اور اس کے لیے موبائل فونز و ویب دونوں پر چلنے والا ایل ایم ایس سسٹم تیار کیا جا رہا ہے جس میں فزیکل ٹیچر کی بجائے ایک تکنیکی اہلکار موجود ہوگا۔‘
وہ اس حوالے سے مزید بتاتے ہیں کہ ’یہ سہولت ابتدائی طور پر 50 سکولوں میں فراہم کی جا چکی ہے اور ہدف 700 سکولز مقرر کیا گیا ہے جبکہ خلیجی ریاستوں میں مقیم پاکستانی شہریوں کے ایسے بچوں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو ان ممالک کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، اسی لیے منصوبے کو ’گلوبل ورچوئل سکول’ کا نام دیا گیا ہے۔‘
اس سہولت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جن کے بارے میں یار محمد بتاتے ہیں کہ ’مالاکنڈ کے بعض سکولوں کو ابھی سے ’بک لیس‘ کر کے طلبا کو ٹیبلٹس فراہم کیے جا چکے ہیں جن میں مکمل نصاب اور لیکچرز موجود ہیں۔‘
انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’ہمیں اساتذہ کی ضرورت پھر بھی پڑے گی کیونکہ اے آئی یا ٹیکنالوجی کو نصاب کے مطابق ترتیب دینے کے لیے مزید ہیومن ریسورس درکار ہوگا۔‘

اگست کے آخر تک 500 سکول ورچوئل لرننگ سے منسلک ہو جائیں گے (فوٹو: خیبرپختونخوا حکومت)

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس مقصد کے لیے ایک اے آئی اتھارٹی قائم کی گئی ہے جس کے لیے بجٹ میں ایک ارب روپے سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق، اس وقت پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر یہ تمام اقدامات آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
’شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد اضافے کا ہدف‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گزشتہ دنوں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی حکومت نے ہر بچے تک عالمی معیار کی تعلیم پہنچانے کے لیے نظامِ تعلیم میں ڈیجیٹل انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کے ذریعے سکول سے باہر لاکھوں بچوں کو تعلیمی دھارے میں لایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز اور سکولوں سے محروم علاقوں سمیت ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔‘
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارا ہدف آئندہ دو برس کے دوران صوبے میں شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد اضافہ ہے۔‘

’پڑھو خیبرپختونخوا‘ منصوبے کے تحت طلبا انٹرنیٹ کے بغیر کسی بھی وقت اور اپنی سہولت کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں گے (فوٹو: خیبرپختونخوا حکومت)

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’5 ارب روپے کی سرمایہ کاری محکمۂ تعلیم کے بجٹ کے مقابلے میں نہایت معمولی مگر نتائج کے اعتبار سے انقلابی ثابت ہوگی کیونکہ ڈیجیٹل اصلاحات گزشتہ 78 برس کے روایتی نظام سے زیادہ مؤثر ثابت ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘ 
’انٹرنیٹ نہ ہوا تو یہ نظام کیسے چلے گا؟‘
دوسری جانب ینگ ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر عطا الرحمان نے منصوبے کی عملی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ بات ترجیحات کی حد تک تو کی جا سکتی ہے لیکن عملی طور پر ممکن نہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایسے علاقے جہاں انٹرنیٹ اور سادہ نیٹ ورک تک موجود نہیں تو وہاں یہ نظام کیسے کام کرے گا؟‘
انہوں نے آف لائن اے آئی ماڈیولز کے دعوے پر  سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ’اے آئی تو آن لائن ڈیٹا کے استعمال سے چلتا ہے، تو یہ آف لائن کیسے کام کرے گا؟ یہ سب عملاً ممکن نہیں اور حکومت فی الحال صرف اور صرف’گڈ گورننس‘ کا تاثر دینا چاہتی ہے۔‘
عطا الرحمان نے صوبے کے تعلیمی نظام کی بنیادی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’اِس وقت لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں۔ 40 ہزار تک سکولوں میں بنیادی سہولیات موجود نہیں اور صوبے میں 60 ہزار تک تدریسی آسامیاں خالی ہیں۔ سکولوں کی بڑی تعداد میں لائبریریاں، کھیل کے میدان، باؤنڈری والز، واش رومز، پانی اور مکمل فرنیچر تک دستیاب نہیں تو گڈ گورننس کا تقاضا ہے کہ سکولوں میں یہ بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔‘
انہوں نے سکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ایک مرحلے میں 500 سکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 600 سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔‘
ان کے مطابق، کالجوں میں مستقل بھرتیوں کی بجائے ایک ایک سمسٹر کے لیے عارضی اور پراجیکٹ بیسڈ اساتذہ تعینات کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری اساتذہ کی پینشن ختم کر دی گئی ہے اور موجودہ اساتذہ اپنی ملازمتوں کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔

صوبے کے 50 سے زیادہ سکولوں میں آن لائن تدریس کا آغاز ہو چکا ہے (فوٹو: آر سی آر ایجوکیشن)

انہوں نے کہا کہ ’2002 میں کتابیں 100 فیصد مفت تھیں لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ صرف 50 فیصد کتابیں مفت ہوں گی اور ان میں سے بھی 10 سے 15 فیصد کتابیں ہی سکولوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔ ‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’نئے تجربات کی بجائے ان بنیادی مسائل کے حل پر کام ہونا چاہیے۔‘
عطا الرحمان نے اس منصوبے سے متعلق کئی سوالات اٹھائے تاہم وہ بتاتے ہی کہ ‘اس منصوبے میں اگر حکومت کو کامیابی ملتی ہے تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں لیکن زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔‘

شیئر: