پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 میں درآمد شدہ سمارٹ فونز پر پی ٹی اے ٹیکس اقساط میں وصول کرنے کا اعلان تو کیا لیکن اس فیصلے پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔
ایسی صورت میں سمارٹ فون صارفین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، اور ان کا یہی بنیادی سوال ہے کہ اقساط پر ٹیکس ادائیگی کی یہ سہولت کب سے دستیاب کی جائے گی۔
اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کی قانونی گنجائش فراہم کر دی گئی ہے، تاہم عملی سطح پر ایسا کوئی واضح میکانزم سامنے نہیں آ سکا جس کے ذریعے عام صارف اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے۔
مزید پڑھیں
-
پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان، موبائل فون کتنے سستے ہوں گے؟Node ID: 903164
یاد رہے کہ عام زبان میں جسے ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایف بی آر کی جانب سے پاکستان میں لائے یا امپورٹ کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد کردہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا مجموعہ ہوتا ہے۔
پی ٹی اے خود کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کرتی، بلکہ ایف بی آر کے مقرر کردہ ٹیکسوں کی وصولی کی تصدیق کے بعد ہی اپنے ڈیربز سسٹم کے ذریعے فون کے آئی ایم ای آئی نمبر کو مقامی سِم نیٹ ورکس پر کام کرنے کے لیے فعال کرتی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے وفاقی بجٹ 27-2026 میں سمارٹ فونز کو پی ٹی اے سے تصدیق شدہ کروانے کے لیے لاگو ٹیکس اقساط میں وصول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایف بی آر اور پی ٹی اے اس حوالے سے کوئی حتمی میکانزم تشکیل نہیں دے سکے ہیں۔
’حتمی طریقہ کار وضع کرنا باقی ہے‘
اس حوالے سے ایف بی آر اور پی ٹی اے کے متعلقہ حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ اقساط پر مبنی اس نظام کے عملدرآمد کو تاحال حتمی شکل دینا باقی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں تکنیکی کام جاری ہے اور جیسے ہی طریقہ کار مکمل ہوگا، صارفین کو اس سے مطلع کر دیا جائے گا۔‘
دوسری طرف، پچھلے چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا اور خبر رساں اداروں پر یہ تاثر عام رہا کہ ایف بی آر نے اقساط پر ٹیکس وصولی کا عمل عملی طور پر شروع کر دیا ہے۔
اس معاملے میں اہم پیش رفت حال ہی میں سامنے آئی جب ملتان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں ان کے موقف اور احتجاج کے نتیجے میں ہی ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کر کے اس اقساط کے نظام کی قانونی اجازت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے نائنتھ شیڈول میں ترمیم کے ذریعے اس اقساط کے نظام کی قانونی گنجائش پیدا کی ہے۔‘
اُن کے مطابق ’ایف بی آر نے 11 ستمبر کو ’سرکلر نمبر ون آف 2026‘ بھی جاری کیا، جس کے تحت یہ لازمی شرط عائد کی گئی ہے کہ ٹیکس کی تمام اقساط متعلقہ مالی سال ختم ہونے سے پہلے ادا کرنا ہوں گی۔‘

ایف بی آر کے سرکلر میں مزید کیا کہا گیا؟
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے درآمد شدہ سمارٹ فونز پر پی ٹی اے سیلز ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کے حوالے سے جاری کردہ سرکلر جاری کردہ سرکلر نمبر ون آف 2026 کے میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے نائنتھ شیڈول کے طریقہ کار اور شرائط میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے۔
اس ترمیم کے تحت پی ٹی اے کے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈربز ) پر موبائل فونز کی رجسٹریشن کے دوران صارفین کو ٹیکس کی رقم اقساط میں ادا کرنے کی قانونی اجازت دی گئی ہے۔
ایف بی آر سرکلر میں کی گئی وضاحت کے مطابق ’اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ تمام اقساط کی ادائیگی اسی مالی سال کے اختتام سے پہلے مکمل کریں جس مالی سال کے دوران متعلقہ فون پاکستان درآمد کیا گیا ہو۔‘
یہ قانونی ترمیم اور اقساط کا فریم ورک وفاقی بجٹ 27-2026 کے ذریعے منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد اب پی ٹی اے پورٹل اور ویب سائٹ پر اس سسٹم کو لائیو کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ عام صارفین یکمشت بھاری ٹیکس ادا کرنے کے بجائے آسان اقساط کے ذریعے اپنے ڈیوائسز کی قانونی رجسٹریشن کروا سکیں۔
ایف بی آر اور پی ٹی اے کے درمیان رابطہ اور تکنیکی پیچیدگیاں
تاہم اس اقساط کے نظام کو فعال بنانے کے لیے ایف بی آر اور پی ٹی اے کے درمیان تکنیکی اور انتظامی ہم آہنگی ضروری ہے۔ پی ٹی اے کے متعلقہ افسران نے اردو نیوز کو بتایا کہ پورٹل کے ساتھ سسٹم کے انضمام کے حوالے سے ایف بی آر کی طرف سے فی الحال کوئی رسمی رابطہ سامنے نہیں آیا ہے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ موبائل فونز کی فعالیت پی ٹی اے کے ’ڈیربز سسٹم‘ سے مشروط ہے، اس لیے کئی پیچیدگیاں اب بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف مقررہ وقت پر قسط جمع نہیں کرواتا، تو کیا اس کا فون بلاک کر دیا جائے گا یا وہ کام کرتا رہے گا؟ ایسے کئی فنی سوالات اور لائحہ عمل ابھی طے ہونا باقی ہیں۔‘













