’انسانیت کی کوئی سرحد نہیں‘ پاکستان میں زیرِ تعلیم 51 فلسطینی طلبہ نے گریجویشن مکمل کر لی
منگل 28 جولائی 2026 11:44
سکالرشپ پروگرام ’آغوش یو کے‘ اور ’الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے (فوٹو: آغوش)
غزہ میں جاری جنگ کے دوران پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھنے والے فلسطینی طلبہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل اس وقت عبور ہوا جب یونیورسٹی آف لاہور میں منعقدہ تقریبِ تقسیمِ اسناد میں 51 فلسطینی طلبہ کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔
ویب سائٹ ’آغوش‘ کے مطابق تقریب کے دوران ’فلسطینی سکالرشپ پروگرام‘ کے تحت زیرِ تعلیم 51 بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) طلبہ میں سے 38 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں، جبکہ باقی 13 طلبہ نے ایک سالہ ہاؤس جاب (انٹرن شپ) مکمل کرنے کے بعد اپنے سرٹیفکیٹس وصول کیے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سکالرشپ پروگرام ’آغوش یو کے‘ اور ’الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے، جس کا مقصد غزہ کی جنگ سے متاثرہ فلسطینی طلبہ کو اپنی تعلیم بلا تعطل جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
تقریب میں پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن مہمانِ اعزاز تھے۔ تقریب میں یونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ، سینئر اساتذہ، ’آغوش یو کے‘ اور ’الخدمت فاؤنڈیشن‘ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جبکہ غزہ کی ’الازہر یونیورسٹی غزہ‘ کے ڈین نے آن لائن خطاب کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ’لوگ ان طلبہ کو نوجوان ڈینٹسٹ کے طور پر دیکھتے ہیں، مگر میرے نزدیک یہ طلبہ 73 ہزار سے زائد شہداء اور 20 لاکھ سے زیادہ ایسے فلسطینیوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو آج بھی محفوظ چھت سے محروم ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’غزہ مشکلات کے باوجود علم اور استقامت کی سرزمین ہے۔‘
فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید نے فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ ’وہ مستقبل میں غزہ واپس جا کر اپنے عوام کی خدمت کریں، کیونکہ نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری فلسطینی عوام ان کی واپسی اور کامیابی کا منتظر ہے۔‘
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی طالب علم احمد نے کہا کہ ’تین برس قبل وہ صرف ایک خواب لے کر غزہ سے نکلے تھے کہ ہر حال میں اپنی تعلیم مکمل کریں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میرا تعلیمی سفر غزہ سے ترکی، پھر قاہرہ اور آخرکار پاکستان تک پہنچا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی مسلسل مدد نے مجھے یہ احساس دلایا کہ انسانیت اور ہمدردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔‘
الخدمت فاؤنڈیشن کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران ہنگامی امداد کے ساتھ ساتھ فلسطینی طلبہ کی تعلیم کو جاری رکھنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہا ہے، کیونکہ ان کے بقول تعلیم سے محروم ایک نسل غزہ کے مستقبل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق ’اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ کے متاثرہ خاندانوں تک دو سالہ ہنگامی امدادی پروگرام کے تحت 21.55 ملین پاؤنڈ سے زائد مالیت کی امداد پہنچائی جا چکی ہے، جبکہ فلسطینی طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف سکالرشپ پروگرام بھی جاری ہیں۔‘
