سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گذشتہ جمعے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت تھی۔
جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف مکہ مکرمہ میں اکٹھے ہوئے تو انہوں نے عالم اسلام کی تین طاقتور ترین ریاستوں کے درمیان ایک اجتماعی دفاعی فریم ورک قائم کیا۔ اس کی بنیادی ذمہ داری واضح ہے: ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مقصد بھی اتنا ہی واضح ہے: جارحیت کی روک تھام، اجتماعی سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام میں کردار ادا کرنا۔
عوامی ردعمل نے اس موقع کی اہمیت کی بھرپور عکاسی کی۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ میں فخر اور خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ لوگوں نے اپنے رہنماؤں کو ایک ایسے وقت میں متحد ہوتے دیکھا جب خطہ غیر معمولی مشکلات سے گزر رہا ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی ایمان، تاریخ اور کئی دہائیوں پر محیط یکجہتی پر مبنی ایک غیر معمولی تعلق کے حامل ہیں جبکہ ترکیہ کے بھی دونوں ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی اور عوامی روابط ہیں۔ مکہ نے اب ان تعلقات کو ایک نئی اور طاقتور تزویراتی شکل دے دی ہے۔
مزید پڑھیں
کچھ بیرونی مبصرین نے جلدی میں اس معاہدے کو ’مسلم نیٹو‘ یا ایک نئے سنی اتحاد کا نام دیا۔ دونوں تشریحات اس کے اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ معاہدہ ایران، اسرائیل یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں ہے۔ نہ یہ فرقہ وارانہ اتحاد ہے اور نہ ہی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز۔ یہ تین خودمختار ریاستوں کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ ہے جنہوں نے اپنے علاقائی سکیورٹی ماحول کو تیزی سے بگڑتے ہوئے دیکھا اور مستقبل کی جارحیت کو روکنے کی اپنی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن امن کے دفاع کے لیے متحد رہنے کے عزم پر قائم ہیں۔
اس معاہدے کے وقت نے قدرتی طور پر توجہ حاصل کی کیونکہ یہ ایران سے جاری تنازع کے دوران طے پایا۔ تاہم وقت کو اس کی اصل وجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس حوالے سے تفصیلی مشاورت کئی برسوں سے جاری تھی۔
گذشتہ ستمبر میں ہونے والا سعودی پاکستان تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط دفاعی تعاون کا نتیجہ تھا جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی طویل اور وسیع فوجی تعلقات موجود ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی تعاون میں بھی نمایاں وسعت آئی ہے۔
ترکیہ کی شمولیت موجودہ تنازع کا اچانک نتیجہ نہیں تھی۔ البتہ اس بحران نے پہلے سے جاری عمل کو تیز کر دیا کیونکہ اس نے نہایت واضح انداز میں ظاہر کر دیا کہ مضبوط اور منظم علاقائی تعاون کیوں ضروری ہو چکا ہے۔

یہ ہی وہ مقام ہے جہاں ولی عہد کی متحرک اور دور اندیش قیادت خصوصی اعتراف کی مستحق ہے۔ قیادت کا حقیقی امتحان بحران کے وقت ہوتا ہے، جب شدید دباؤ میں فیصلے کرنا پڑتے ہیں اور ان کے نتائج آنے والی کئی دہائیوں کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ ایک دانش مند رہنما کو تاریخ کے اسباق سمجھنے، حال کے حقائق کو جاننے اور مستقبل کی تیاری کے لیے بصیرت رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ولی عہد نے عین یہ ہی خصوصیات دکھائی ہیں۔
گذشتہ سال پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ کرنے کا ان کا فیصلہ بعد میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں مزید دور اندیش ثابت ہوتا ہے۔ مکہ معاہدہ اسی وژن کو مزید وسعت دیتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ترکیہ کو ایک ایسے وسیع فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے جو تینوں ممالک کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے اور علاقائی استحکام میں مدد دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
موجودہ تنازع کے دوران ان کی قیادت بھی اتنی ہی اہم رہی۔ جیسے جیسے جنگ پھیلتی گئی اور کشیدگی کے بڑھنے کا خطرہ بڑھا، سعودی عرب کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ولی عہد نے غیر معمولی سٹریٹیجک صبر کا مظاہرہ کیا اور مملکت یا پورے خلیجی خطے کو ایسی جنگ میں گھسیٹے جانے سے روکے رکھا جس کا انہوں نے نہ آغاز کیا تھا اور نہ ہی وہ اس کے خواہش مند تھے۔
سعودی عرب نے اپنی خودمختاری کا دفاع کیا، اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا اور سفارتی کوششوں کی حمایت کی، مگر تحمل کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ جب بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول نے ایک مضبوط اور زیادہ پائیدار جواب کا تقاضا کیا تو وہ جواب مکہ میں سامنے آیا۔ یہ جنگ پر جذباتی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایسی قیادت کا اقدام تھا جو بحران سے سبق سیکھنے اور مستقبل کی تیاری کے لیے پرعزم تھی۔
وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اس معاہدے کو ایک طویل المدتی شراکت داری قرار دیا ہے جو ’روک تھام، ہم آہنگی اور انضمام‘ کو مضبوط بناتی ہے۔
ان الفاظ کی بنیاد تجربے پر ہے۔ موجودہ تنازع سے پہلے بھی سعودی اور پاکستانی دفاعی رابطہ انتہائی مضبوط تھا اور تنازع کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ شہزادہ خالد نے پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا، جبکہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان فوجی روابط مسلسل فروغ پاتے رہے۔

حالیہ مہینوں کے تجربے نے اس قریبی سیاسی اور فوجی مشاورت کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ مکہ معاہدہ اب اسے زیادہ مضبوط اور دیرپا بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تینوں ممالک جو صلاحیتیں ایک ساتھ لا رہے ہیں وہ قابل ذکر ہیں۔ سعودی عرب کے پاس بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتیں، معاشی طاقت اور خلیج، بحیرۂ احمر اور وسیع عرب دنیا کو جوڑنے والی اہم جغرافیائی حیثیت موجود ہے۔ ترکیہ خطے کی مضبوط ترین افواج میں سے ایک اور ایک ترقی یافتہ دفاعی صنعت کا حامل ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کی انتہائی تجربہ کار اور پیشہ ور مسلح افواج کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون کی میراث لاتا ہے۔
انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ مشقیں اور تربیت، بحری سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، فضائی اور میزائل دفاع، سائبر سکیورٹی، لاجسٹکس، جدید ٹیکنالوجیز اور مشترکہ دفاعی پیداوار ایسے تمام شعبے ہیں جن میں تعاون مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
معاہدے کے تحت تجویز کردہ ادارہ جاتی طریقہ کار باقاعدہ رابطہ یقینی بنا سکتے ہیں اور تینوں ممالک کو خطرات کے بحران میں تبدیل ہونے سے قبل مشترکہ تیاری کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
اس فریم ورک کا مرکزی نکتہ اجتماعی دفاع کی شق ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، معاہدہ ایک دوسرے کی سکیورٹی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے ان کے عزم میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں چھوڑتا۔
اس شق کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہی ہوگی کہ اس کی ساکھ ایسی ہو کہ اسے کبھی استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ یہ ہی دراصل دفاعی روک تھام کا جوہر ہے؛ یعنی کسی بھی ممکنہ جارح کو پہلے ہی یقین دلا دینا کہ جارحیت کو متحدہ عزم کا سامنا ہوگا اور اس کی قیمت کسی بھی ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔

یہ عہد اس لیے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ ہمارے خطے کو درپیش خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ میزائل، ڈرون، پراکسی فورسز، تجارتی جہاز رانی پر حملے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات نے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ایسے ممالک پر بھی بھاری قیمت مسلط کر سکیں جن کا کسی تنازع کو شروع کرنے میں کوئی کردار نہ ہو۔
خلیجی ممالک اس کے نتائج براہ راست بھگت چکے ہیں۔ ان کے شہر، شہری، توانائی کے مراکز، معاشی بنیادی ڈھانچہ اور بحری راستے دوسروں کی جنگوں میں دباؤ کے شکار نہیں رہ سکتے۔ مکہ معاہدہ اس کا ایک قابل عمل، ریاستی قیادت پر مبنی جواب فراہم کرتا ہے: مضبوط دفاع، قریبی ہم آہنگی اور واضح پیغام کہ خودمختاری کی خلاف ورزی نتائج کے بغیر ممکن نہیں۔
اسی وقت یہ معاہدہ کوئی نیا دشمن بھی پیدا نہیں کرتا۔ سعودی وزارت خارجہ کے انڈر سیکریٹری ڈاکٹر رائد بن خالد قرملي واضح کر چکے ہیں کہ یہ نہ تو کسی فوجی یا فرقہ وارانہ بلاک کا قیام ہے، نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا ہتھیاروں کی دوڑ سے ہے، اور نہ ہی یہ سعودی عرب کے مضبوط خلیجی، عرب اور بین الاقوامی تعلقات کی قیمت پر قائم کیا گیا ہے۔
مزید برآں، یہ تینوں ممالک کے موجودہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی وعدوں کی جگہ بھی نہیں لیتا۔ اردوغان بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ملک کو ہدف نہیں بناتا جبکہ شہزادہ خالد نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پلیٹ فارم وسیع ترعلاقائی تعاون کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
اس مثبت مقصد پر زور دینا ضروری ہے۔ سعودی عرب اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے اور پہلے ہی مسائل سے دوچار خطے میں نئی تقسیم پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ مکالمہ اب بھی ضروری ہے، سفارت کاری ناگزیر ہے اور بین الاقوامی شراکت داریاں اہم ہیں۔
تاہم حالیہ واقعات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ علاقائی ریاستوں کے پاس اپنی خودمختاری کے دفاع اور اپنی سکیورٹی میں زیادہ براہ راست کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مضبوط دفاع اور سنجیدہ سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ قابل اعتماد دفاعی روک تھام ان ہی تنازعات کو روک سکتی ہے جنہیں بعد میں سفارت کاری حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔












