’ہمارا خطہ مزید کتنا عدم استحکام برداشت کرے‘، سعودی وزیر خارجہ کا دو ریاستی حل پر اجلاس میں سوال
’ہمارا خطہ مزید کتنا عدم استحکام برداشت کرے‘، سعودی وزیر خارجہ کا دو ریاستی حل پر اجلاس میں سوال
جمعرات 24 ستمبر 2026 21:48
شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب کی پیش کردہ عرب امن تجویز اب بھی ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے خبردار کیا ہے کہ دو ریاستی حل کے نفاذ میں تاخیر کی ایک قیمت ہے اور عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا کہ اس سے پہلے کہ فلسطینی ریاست حقیقت بنے مزید کتنی جانیں ضائع ہوں گی۔
عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کی اعلیٰ سطحی وزارتی میٹنگ کا افتتاح کیا۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ بے دخلی اور فلسطینی اداروں کو کمزور کرنے کے ذریعے دیرپا تصفیے کی بنیادیں ختم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہر تاخیر کی ایک قیمت ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی مزید کتنے صدمات اور درد برداشت کریں گے جب تک ہم اس وژن تک پہنچیں؟ ہمارا خطہ مزید کتنا عدم استحکام برداشت کرے؟‘
شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب کی پیش کردہ عرب امن تجویز اب بھی ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے، ’زمین کے بدلے امن، دو ریاستیں، دونوں کے لیے سلامتی اور مشترکہ خوشحالی۔‘ انہوں نے زور دیا کہ یہ وژن بین الاقوامی قراردادوں اور قانون پر مبنی ہے اور اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع ختم کرنے کے منصوبے نے مزید تقویت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں مزید 25 سال انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ ایک ایسی بنیاد کو یاد کریں جو قابل عمل ثابت ہوئی۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کو اس بحران سے سیاسی یا جغرافیائی طور پر مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب ’عارضی انتظامات‘ کو مسترد کرے گا جو حتمی حل کے طور پر پیش کیے جائیں اور ایسے تصفیے بھی جو ’عارضی جغرافیائی حالات‘ پر مبنی ہوں۔
شہزادہ فیصل نے خطے کے لیے ایک امید افزا وژن پیش کیا اور کہا کہ ’میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بچے اپنے صدمات پر قابو پا رہے ہیں۔ میں ایسی نسلیں دیکھتا ہوں جو ایک ہی مستقبل بانٹتی ہیں۔‘ انہوں نے یروشلم کو ’ہماری مشترکہ انسانیت کی علامت‘ بنانے کی بات کی۔ ریاض کا مقصد ہے کہ ’ایک فلسطین، دو ریاستیں، امن کا خطہ۔‘
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ نا گزیر ہے (فوٹو: ایس پی اے)
اس سے قبل سعودی عرب، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ ایک اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کے مکمل اور فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا اس کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آباد کاروں کے تشدد اور الحاق کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی اقدام پر زور دیا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سکیورٹی کی بنیاد کسی دوسرے فریق کی قیمت پر نہیں بلکہ باہمی مفادات پر ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ نا گزیر ہے۔
انہوں نے یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے اور تمام فریقین کی جانب سے تشدد، نفرت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔