سعودی کابینہ: آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر زور
کابینہ کا اجلاس سعودی ولی عہد کی زیر صدارت ریاض میں ہوا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کابینہ نے منگل کو ریاض میں ہونے والے اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوا ہے۔
ولی عہد نے روسی صدر، قطر کے امیر اور سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا۔
ان رابطوں میں سعودی عرب اور دوست ملکوں کے درمیان تعلقات کا جائزہ اور مختلف شعبوں میں انہیں مضبوط بنانے کے طریقے تلاش کیے گئے۔
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج کا جائزہ لیا۔ عالمی امن و سلامتی، سفارتکاری اور انسانی بحرانوں سے نمنٹے میں کثیر الجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے پروگرام کے لیے سعودی مالی معاونت کو دہشتگردی کے خلاف عالمی کوششوں کے تسلسل کا حصہ قرار دیا۔

اجلاس میں مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے کے سیکریٹریٹ کے قیام اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے سلامتی کونسل کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں حوثی ملیشیا کے سعودی عرب اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری سلامتی کو لاحق خطرات کی مذمت کی گئی ہے۔
اجلاس نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں جہازرانی کی آزادی کو یقینی بنانے، آبنائے ہرمز میں حالات کو 28 فروری سے قبل کی سطح پر بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان اہم آبی گررگاہوں کو دباؤ ڈالنے، دھمکانے یا ریاستوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیے جانے کو مسترد کیا۔
اجلاس نے مسجد الاقصی کی حرمت اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ مملکت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کا حصول صرف دو ریاستی حل پر عملدرآمد اور 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسینی ریاست کا قیام سے ہی ممکن ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔
کابینہ نے مقامی امور کا بھی جائزہ لیا اور مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے کے لیے وزرا یا ان کی جانب سے نامزد کردہ افراد کو اختیارات تفویض کیے۔

سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے درمیان سفارتی و خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی سطح پر ویزے سے استثنی کے معاہدے کی منظوری دی گئی۔
علاوہ ازیں سعودی وزارت ثقافت اور امریکی سمتھسونین انسٹی ٹیوٹ کے درمیان ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات اور دستخط کرنے کے لیے وزیر ثقافت یا ان کے نمائندے کو اختیار دیا گیا۔
