صدر ٹرمپ کو رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع: ایکسیوس
صدر ٹرمپ کو رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع: ایکسیوس
اتوار 27 ستمبر 2026 20:58
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ فوجی حملے کرنے کے امکان پر ’ہمیشہ‘ غور کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے، کیونکہ قطری ثالث دونوں فریقین کو آبنائے ہرمز، امریکی بحری پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام پر وسیع اختلافات کم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو ٹرمپ نے ایکسیوس کو فون انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے ایران کے ساتھ (اس ہفتے) مزید بات چیت کی توقع ہے۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ وہ معاہدہ نہیں ہے جو میں کرنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ ہے جس پر شاید ہم ایک سال پہلے متفق ہو جاتے۔ انہوں نے حد سے زیادہ کھیلنے کی کوشش کی۔‘
دو علاقائی ذرائع نے ایکسیوس کو تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور پیر کو جلد شروع ہو سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق اختلافات ختم کر سکیں گے یا نہیں۔
ٹرمپ کے یہ تبصرے ایک دن بعد سامنے آئے جب انہوں نے ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس میں ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
قطر اور دیگر علاقائی ثالث سفارت کاری کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے مؤقف اب بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ ایران مذاکرات کو آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ تہران سے جوہری رعایتیں چاہتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ فوجی حملے کرنے کے امکان پر ’ہمیشہ‘ غور کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر تیل کی ترسیل کو ممکن بنا رہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ’20 ملین بیرل سے زیادہ‘ تیل ہفتے کے آخر میں اس راستے سے گزرا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے تصدیق کی کہ جمعہ کی رات 22 ملین بیرل تیل برآمد ہوا۔
گذشتہ منگل کو امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیے۔
عراقچی نے ٹرمپ کے انکار کو تسلیم کیا لیکن کہا کہ ایران ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ’حتمی‘ جواب کا انتظار کرے گا (فوٹو: اے ایف پی)
قطری حکام نے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچائے۔ عراقچی نے امریکی ایلچیوں کو ایران کی شرائط پیش کیں، جن میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل پر پابندیاں ہٹانا اور علاقائی جنگ بندی بحال کرنا شامل تھا۔
ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’قابل قبول‘ نہیں ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے کیونکہ ’وہ بری طرح ہار رہے ہیں۔‘
قطری ثالث اب بھی مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ قطر کے وزیراعظم نے جمعرات کو نیویارک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور بعد میں امریکی ایلچی وٹکوف کو بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق ثالثوں نے دونوں فریقوں کو ایران کی اصل تجویز پر مبنی ایک سمجھوتہ متن بھی پیش کیا ہے۔
عراقچی نے سنیچر کو ٹیلیگرام پر ٹرمپ کے انکار کو تسلیم کیا لیکن کہا کہ ایران ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ’حتمی‘ جواب کا انتظار کرے گا۔ اتوار کو این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران اب بھی سفارتی حل چاہتا ہے اور امریکی وسط مدتی انتخابات تہران کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہے۔