جنوبی افریقہ میں مسلح افراد کی تین مختلف مقامات پر فائرنگ سے 30 افراد ہلاک، فوج طلب
جنوبی افریقہ میں مسلح افراد کی تین مختلف مقامات پر فائرنگ سے 30 افراد ہلاک، فوج طلب
اتوار 27 ستمبر 2026 16:18
ملزمان نے فرار ہونے سے پہلے دو گاڑیوں کو آگ لگا دی (فوٹو: اے ایف پی)
جنوبی افریقہ کے دو بڑے شہروں جوہانسبرگ اور کیپ ٹاؤن میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے کم از کم 30 افراد کو ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ پولیس کی مدد کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس نے کہا کہ یہ ملک میں بڑھتے ہوئے مجرمانہ تشدد کی تازہ ترین مثال ہے۔ آٹھ گن مین، جو اسالٹ رائفلز اور پستولوں سے مسلح تھے، سنیچر کو جوہانسبرگ کے جنوب مغرب میں ایک بار پر حملہ آور ہوئے، جس میں 17 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔
پولیس نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں 13 مرد اور چار خواتین شامل تھیں۔ ملزمان نے باہر بیٹھے گاہکوں پر فائرنگ کی اور پھر اندر جا کر گولیاں چلائیں، یہ فائرنگ ویڈیلا میں ہوئی، جو نیم دیہی علاقہ ہے جہاں اینٹوں کے مکانات اور چھوٹے کاروبار ہیں، اور اردگرد کان کنی کے لیے استعمال ہونے والی وسیع زمینیں ہیں۔
ملزمان نے فرار ہونے سے پہلے دو گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ یہ علاقہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کا مرکز رہا ہے، جہاں فوجی پولیس کے ساتھ مل کر ترک شدہ کانوں کے گرد مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے تعینات ہیں۔ حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
ڈپٹی صوبائی پولیس کمشنر میجر جنرل فریڈ کیکانا نے جائے وقوعہ پر کہا کہ ’جرائم پیشہ افراد سمجھتے ہیں کہ یہ ایک فیشن ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم اس کے عادی ہو جائیں، لیکن یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں ملزمان کی واضح تصاویر ملی ہیں اور ہم انہیں پکڑ لیں گے۔‘
مزید کہا کہ یہ حملہ گذشتہ ماہ کے ایک واقعے کا بدلہ معلوم ہوتا ہے۔ کیکانا نے کہا کہ متاثرین میں سے ایک کو پولیس گذشتہ ماہ اسی بار میں ہونے والے ایک واقعے کے سلسلے میں تلاش کر رہی تھی، جس میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق ایک الگ فائرنگ میں اتوار کی صبح کیپ ٹاؤن کے باہر ایک قصبے میں باربی کیو مقام پر گن مین نے 10 افراد کو ہلاک اور 11 کو زخمی کر دیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ناچ رہے ہیں اور شراب پی رہے ہیں کہ اچانک گولیوں کی آواز آتی ہے اور لوگ بھاگنے لگتے ہیں۔ پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ باقی ہسپتال لے جاتے وقت دم توڑ گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل تھیں، کسی بھی واقعے میں کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔
گزشتہ ہفتے گن مین نے ڈربن کے ایک قصبے میں ایک ہاؤس پارٹی پر حملہ کر کے 11 افراد کو ہلاک کر دیا (فوٹو: اے ایف پی)
کیپ ٹاؤن کے مضافات میں ایک اور فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
فوج طلب
جنوبی افریقہ میں گن کلچر کی سطح بلند ہے، جو اکثر گینگز، منظم جرائم اور مقامی کاروباری رقابتوں سے جڑا ہوتا ہے۔ تقریباً 62 ملین آبادی والا ملک روزانہ تقریباً 60 قتل ریکارڈ کرتا ہے۔
صدر سیرل رامافوسا نے اتوار کو کہا کہ سکیورٹی فورسز ’جرائم کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گی۔ ہم ایسا ملک نہیں ہو سکتے جہاں لوگ بندوقیں اٹھا کر لوگوں پر فائرنگ شروع کر دیں۔‘
گزشتہ ہفتے گن مین نے ڈربن کے ایک قصبے میں ایک ہاؤس پارٹی پر حملہ کر کے 11 افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔ جنوبی افریقہ نے بار بار فوج کو پولیس کی مدد کے لیے تعینات کیا ہے۔ مارچ میں رامافوسا نے جوہانسبرگ میں تشدد کے ہاٹ اسپاٹس پر فوجی تعینات کیے، اور کہا کہ بڑھتا ہوا جرم ملک کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔
جوہانسبرگ میں دو ماہ میں ایک ہی میونسپلٹی میں 11 خواتین کو قتل کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
فوجی 2020 میں سخت کووڈ 19 لاک ڈاؤن نافذ کرنے اور 2021 میں سابق صدر جیکب زوما کی جیل کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران بھی تعینات کیے گئے تھے۔ انہیں 2023 میں بھی تعینات کیا گیا جب ٹرک جلانے کی لہر نے بڑے پیمانے پر بدامنی کے خدشات کو جنم دیا۔
جوہانسبرگ میں دو ماہ میں ایک ہی میونسپلٹی میں 11 خواتین کو قتل کیا گیا ہے۔ تازہ ترین متاثرہ خاتون اتوار کو دوپہر کے وقت ملی۔ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر ایک متاثرہ خاتون کے قتل کا الزام ہے جو سنیچر کو نیم برہنہ اور پتھروں سے مار کر ہلاک کی گئی۔