Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت مزید محدود، ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئی

ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اُس کی شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی (فوٹو: اے ایف پی)
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد منگل کو ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئی اور یہ صرف آٹھ رہ گئی۔ شپنگ ڈیٹا کے اعداد و شمار کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کے باعث جہازوں کے مالکان اہم بحری راستوں کا انتخاب کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران نواز یمنی حوثیوں نے الگ الگ حملوں کی اطلاعات دیں، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے امکانات مزید محدود ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ جب تک اس کی شرائط تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
کپلر کے ڈیٹا کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آٹھ بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 12 سے بھی کم رہی۔ یہ 5 اگست کے بعد ایک دن میں آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی سب سے کم تعداد ہے۔ ان میں سے صرف ایک جہاز آبنائے بحفاظت عبور کر گیا جو کوئلہ لے کر جا رہا تھا، جبکہ باقی جہاز ابھی آبنائے سے گزر رہے تھے۔
آبنائے میں داخل ہونے والے ساتوں جہازوں نے ایرانی راستہ اختیار کیا۔
ایل ایس ای جی کے الگ اعداد و شمار کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے مجموعی طور پر 11 بحری جہاز گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 14 تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملے 28 فروری کو شروع ہونے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے قبل عام طور پر تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز روزانہ اس اہم بحری راستے سے گزرتے تھے۔
دریں اثنا، منگل کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ خلیجِ عمان میں موجود امریکی فورسز نے ایران کی جانب جانے والے پاناما کے پرچم بردار ایک مال بردار بحری جہاز کی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت ناکارہ بنا دی۔
سینٹ کام کے مطابق اس جہاز نے ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اور امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے جہاز پر دو میزائل بھی فائر کیے۔
امریکی کمانڈ نے کہا کہ مذکورہ جہاز نے ایران کی جانب اپنا سفر روک دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایک بار پھر یہ کہا کہ امریکی فورسز ایران پر عائد بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سینٹ کام نے ایک بار پھر یہ کہا ہے کہ امریکی فورسز ایران پر عائد بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

ایک الگ انتباہ میں برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنزنے منگل کو خلیجِ عمان میں ایک کنٹینر بردار بحری جہاز سے متعلق ایک واقعے کی اطلاع دی۔
یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق مذکورہ بحری جہاز پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد عملے نے مدد کے لیے ہنگامی کال کی اور جہاز چھوڑنے کی تیاری شروع کر دی۔
ایک عوامی بحری ریڈیو چینل پر نشر ہونے والے پیغام کے مطابق جہاز پر 17 افراد سوار تھے اور یہ واقعہ خلیجِ عمان کے مشرقی کنارے کے قریب پیش آیا۔
میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اسی روز ایک اور واقعے کی رپورٹ بھی جاری کی، جس میں کہا گیا کہ بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں ایک مال بردار بحری جہاز کو نامعلوم سمت سے آنے والے ایک حملہ آور پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس میں جانی نقصان بھی ہوا۔
کپلر کے ڈیٹا کے مطابق منگل کو بحیرۂ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد 30 رہی، جو گزشتہ 10 دن کی اوسط 25 سے زیادہ ہے۔

شیئر: