Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈگری میڈیکل کی کام مزدوری کا‘، پاکستان میں افغان یونیورسٹیوں کی اسناد غیر تسلیم شدہ کیوں؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے رہائشی حماد خان ڈاکٹر بننے کا خواب لیے سال 2022 میں افغانستان کے شہر جلال آباد روانہ ہوئے۔
ان کا تعلیمی سلسلہ شروع ہوئے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ انہیں خبر ملی کہ پاکستان میں افغانستان کی میڈیکل اور ڈینٹل یونیورسٹیوں کی ڈگریاں غیر مؤثر قرار دے دی گئی ہیں، جس کے بعد فارغ التحصیل طلبہ کے لیے نہ تو لائسنسنگ ٹیسٹ دینا ممکن رہے گا اور نہ ہی پریکٹس کرنا۔
انہوں نے اس غیر یقینی صورتِ حال کے بعد اپنے تعلیمی مستقبل سے مایوس ہو کر افغانستان سے ایک سال بعد ہی پاکستان واپس لوٹنے کا فیصلہ کر لیا۔
عمر خان اب وسطی ایشیائی ممالک سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تو وہیں اُن جیسے سینکڑوں دیگر پاکستانی طالب علم ایسے بھی ہیں جو اس وقت اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں اکثریت کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔
اس غیر یقینی کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی معیار (ای سی ایف ایم جی) پر پورا نہ اترنے کے باعث افغان اداروں سے حاصل کردہ میڈیکل یا ڈینٹل کی ڈگری کی پاکستان میں کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی اور نہ ہی ان طلبا کو ملک میں پریکٹس کرنے کی اجازت ملے گی۔
واضح رہے کہ ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ای ای ایف ایم جی) ایک عالمی ادارہ ہے، جس کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہوئے بغیر کسی بھی غیر ملکی میڈیکل کالج کی ڈگری کو عالمی معیار کے مطابق تصور نہیں کیا جاتا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے میڈیکل کے طالب علم عمر خان (فرضی نام) کو بھی اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’انہوں نے جب سال 2021 میں افغانستان کے شہر جلال آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا تو یہ یونیورسٹی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل تھی۔ تاہم، بعد میں اسے اس فہرست سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ مائیگریٹ کر کے روس چلے گئے اور وہاں سے اپنا تعلیمی سفر مکمل کیا۔‘
اُن کا کہنا تھا  کہ ’اُن کے ساتھ پڑھنے والے درجنوں ایسے طلبہ بھی موجود ہیں جنہوں نے افغان یونیورسٹیوں ہی سے اپنی ڈگریاں مکمل کیں، لیکن پاکستان لوٹنے پر اب انہیں نہ تو ہاؤس جاب مل رہی ہے اور وہ نہ ہی کلینیکل پریکٹس کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق پاکستانی طلبا اب بھی میڈیکل کی تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں، لیکن وہاں بھی روزگار نہ ملنے پر وہ اب سخت پچھتا رہے ہیں کہ انہوں نے ان اداروں کا انتخاب ہی کیوں کیا۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق، افغانستان میں زیرِتعلیم پاکستانی طلبا کی اصل تعداد سرکاری ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے (فوٹو: پی ایم ڈی سی)

انہوں نے کہا کہ ’ڈگری کی تصدیق نہ ہونے اور کیریئر کے خاتمے کے بعد کئی متاثرہ طلبا اب پاکستان اور بیرونِ ملک روٹی روزی کی خاطر مزدوری اور غیر متعلقہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔‘
پی ایم ڈی سی کی نئی ایڈوائزری؟
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی ) کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ ایڈوائزری کے مطابق، صرف وہی پاکستانی شہری ’نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن‘ (این آر ای ) دینے کے اہل ہوں گے جن کی ڈگری امریکہ کے بین الاقوامی ادارے ای سی ایف ایم جی سے منظور شدہ ہوگی۔ 
کونسل نے واضح کیا ہے کہ ’افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل ادارے اس عالمی فہرست میں شامل نہیں ہیں، چنانچہ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کو پاکستان میں نہ تو امتحان دینے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی وہ پریکٹس کر سکیں گے۔‘ ایڈوائزری میں طلبا کو یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ ’اس معاملے میں کسی قسم کی چھوٹ یا استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔‘
اس حوالے سے پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار ڈاکٹر ریحان اصغر نقوی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ ایڈوائزری دراصل کونسل کے جولائی 2025 کے فیصلے کا ہی تسلسل ہے، جس کا مقصد طلبا کو خبردار کرنا ہے کہ وہ ای سی ایف ایم جی سے غیر منظور شدہ کسی بھی طبی ادارے میں داخلہ لینے سے گریز کریں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’غیر تسلیم شدہ اداروں سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبا پاکستان لوٹ کر رجسٹریشن یا اہلیت کا امتحان نہیں دے سکیں گے۔ اس سے نہ صرف ان کی پانچ سال کی محنت ضائع ہوگی بلکہ ان کے غلط راستے اختیار کرنے کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔‘

غیر تسلیم شدہ اداروں سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبا پاکستان لوٹ کر میڈیکل پریکٹس نہیں کر سکیں گے (فوٹو: پی ایم ڈی سی)

انہوں نے وسطی ایشیائی ممالک سے متعلق سوال پر کہا کہ ’وہاں موجود 40 سے 50 طبی اداروں میں سے صرف 10 کے قریب ہی معیار پر پورا اُترتے ہیں، اور غیر تسلیم شدہ اداروں کا انتخاب طلبا کے کیریئر کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’ای سی ایف ایم جی کی منظور شدہ فہرست میں افغانستان کا نام سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور جب کسی ملک کا نام ہی شامل نہ ہو، تو وہاں کے میڈیکل یا ڈینٹل کالجوں پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی کوئی بھی یونیورسٹی پاکستان کے قومی یا پھر بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتی۔‘
افغانستان میں میڈیکل کے کتنے پاکستانی طلبا زیرِتعلیم ہیں؟
سینکڑوں پاکستانی طلبا اگرچہ میڈیکل کی ڈگری کے لیے افغان یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن وہاں زیرِ تعلیم طلبا کے مصدقہ اعداد و شمار کسی کے پاس موجود نہیں ہیں۔
ہم نے اس حوالے سے پی ایم ڈی سی سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ طلبا کی تعداد کم ہے۔‘
کونسل نے وضاحت کی کہ ہر طالب علم چونکہ ہمارے پاس رجسٹریشن نہیں کرواتا اور وہ خود ہی وہاں جا کر پڑھ رہے ہوتے ہیں، تو اس لیے افغانستان میں موجود پاکستانی طلبا کی اصل تعداد سرکاری ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے۔‘
ہم نے اس معاملے پر آخر میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے سینیئر وائس پریذیڈنٹ ڈاکٹر محمد اجمل کی رائے بھی حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے ہر ملک میں یہ بین الاقوامی اصول نافذ ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے میڈیکل یا ڈینٹل گریجویٹس کی اسناد اور ان کی جامعہ کا معیار پرکھا جائے۔‘ 
انہوں نے برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی مثال دی جہاں پریکٹس کے لیے وہاں اہلیت کا مقامی امتحان دینے کے علاوہ دیگر قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتا ہے۔

پاکستانی طلبا وسطی ایشیائی ریاستوں، روس اور چین کی ایسی جامعات کا رُخ کر رہے ہیں جو عالمی سطح پر تصدیق شدہ نہیں (فوٹو: مائی فلائی اَپ)

انہوں نے غیر تسلیم شدہ اداروں کا انتخاب کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں بچوں کو ہر صورت ’ڈاکٹر‘ بنائے جانے کا جنون سوار رہتا ہے تو اس لیے بھی طلبا جہاں آسانی دیکھتے ہیں تو وہاں داخلہ لے لیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’طلبا افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں، روس اور چین کی ایسی یونیورسٹیوں کا رُخ کر رہے ہیں جن کی بین الاقوامی سطح پر کوئی شناخت نہیں، اور یوں واپس آ کر ان کے لیے پریکٹس کا امتحان پاس کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے نشاندہی کی  ’پی ایم ڈی سی کے اقدامات کے باوجود طالب علموں کی بڑی تعداد اب بھی ان غیر منظور شدہ کالجوں میں داخلہ لے رہی ہے۔‘
انہوں نے ماضی میں افغانستان کی منظور شدہ یونیورسٹیوں کو فہرست سے نکالنے اور اس بارے میں پیشگی آگاہی مہم نہ چلانے پر کہا کہ ’اداروں کی مانیٹرنگ ایک مستقل عمل ہے۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ’کوئی یونیورسٹی اگر تین سال پہلے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتی تھی لیکن آج ان معیارات پر پورا نہیں اُترتی، تو اسے ماضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔‘ 

پاکستانی طلبا اب بھی میڈیکل کی تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق طلبا کا یہ شکوہ بجا ہو سکتا ہے، لیکن انہیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ یونیورسٹیوں کی فہرست سازی ایک متحرک عمل ہے، جہاں معیار پر پورا نہ اُترنے والے اداروں کو کسی بھی وقت فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد اجمل نے پی ایم ڈی سی کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروائی کہ ’کونسل کو قومی سطح پر ایک جامع پالیسی تشکیل دینی چاہیے اور آگاہی کا نظام بہتر بنانا چاہیے، تاکہ طلبا کا مستقبل خراب نہ ہو۔‘

شیئر: