طالبان حکومت کے پانچ سال، افغانستان میں جشن، پابندیوں پر تنقید
طالبان حکومت کے پانچ سال، افغانستان میں جشن، پابندیوں پر تنقید
ہفتہ 15 اگست 2026 15:44
طالبان حکومت کے اقدامات سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان میں طالبان حکومت نے سنیچر کے روز ملک میں اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر جشن منایا۔ اس موقع پر ہر طرف طالبان کے پرچم نظر آئے اور فوجی گاڑیوں کے قافلے سڑکوں پر گشت کرتے رہے جبکہ ناقدین نے روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں پابندیاں مزید سخت کیے جانے پر تنقید کی۔
خبرساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں افغان شہری پرچموں سے سجی رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں گھومتے رہے۔ حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس دن کو افغانستان کی تاریخ کا ایسا دن قرار دیا جو ’سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔‘
سابق امریکی سفارتخانے کے قریب ایک چوک میں سیکڑوں افغان شہری جمع ہوئے، جہاں مرد، لڑکے اور کم عمر لڑکیاں پک اپ گاڑیوں میں سوار تھے اور طالبان حکومت کے سفید پرچم لہرا رہے تھے۔
دیگر افراد سیلفیاں بناتے اور تصاویر کھنچواتے رہے جبکہ شہر میں بنائے گئے نئے دیوار گیر نقشوں پر لکھا تھا: ’آزادی وقار، فخر اور شناخت کی علامت ہے۔‘
سفید یا سرخ پٹیاں سر پر باندھے مرد بھی جشن میں شریک ہوئے جبکہ مذہبی اور ملی نغمے فضا میں گونجتے رہے۔ یہ وہی دن تھا جب پانچ سال قبل طالبان جنگجو کابل میں داخل ہوئے تھے۔
پرچموں سے سجی درجنوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوک کے گرد گھومتی رہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اے کے 47 رائفلیں اٹھائے ہجوم میں موجود رہے۔ فوجی ہیلی کاپٹروں نے بھی دارالحکومت کے اوپر پروازیں کیں۔
حکام کرکٹ میچ اور دیگر کھیلوں کے مقابلوں کا بھی انعقاد کریں گے جن میں لڑکیوں اور خواتین کی شرکت پر پابندی ہے۔
طالبان جنگجوؤں نے 15 اگست 2021 کو بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ ایک برق رفتار فوجی کارروائی کے بعد ہوا تھا جو پورے افغانستان میں پھیل گئی اور امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے افراتفری میں انخلا کے بعد حکومتی فورسز کو شکست سے دوچار کر دیا۔
سابق امریکی سفارتخانے کے قریب ایک چوک میں سیکڑوں افغان شہری جمع ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
غیر ملکی افواج کی جانب سے چھوڑ دی جانے والی بعض گاڑیاں، جن میں ’ہم وی‘ گاڑیاں بھی شامل تھیں، قافلے کی صورت میں شہر کی سڑکوں پر چلائی گئیں جبکہ شہر میں چیک پوسٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یونیورسٹی کے طالب علم پیروز مرزائی نے رواں ہفتے کہا کہ حکومت نے سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور ’کاروباری افراد کے لیے بہت سے مواقع‘ فراہم کیے ہیں۔
20 سالہ پیروز مرزائی نے پرچم فروخت کرنے والے دکانداروں کے قریب خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ملازمتیں زیادہ نہیں ہیں۔‘
حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رواں ماہ کہا تھا کہ حکام ’معیشت کی بنیادیں‘ رکھ رہے ہیں اور اس کے لیے صبر کی ضرورت ہے۔
گزشتہ تین برس کے دوران ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان سے 60 لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کی واپسی کے باعث فی کس مجموعی ملکی پیداوار میں کمی آئی ہے جبکہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق حقیقی معاشی شرح نمو 4.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
غیر ملکی افواج کی جانب سے چھوڑ دی جانے والی بعض گاڑیاں، جن میں ’ہم وی‘ گاڑیاں بھی شامل تھیں، قافلے کی صورت میں شہر کی سڑکوں پر چلائی گئیں (فوٹو: اے ایف پی)
’گھٹن کا باعث بننے والی پابندیاں‘
اگرچہ طالبان حکام نے یورپ سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں تاہم ان کی حکومت کو اب بھی صرف روس نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی انتہائی خراب ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رواں برس جنگ بھی ہوئی، جس سے افغانستان میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا، جہاں پہلے ہی بین الاقوامی امداد میں کمی نے لوگوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
بعض ممالک نے طالبان حکام کے ساتھ تعلقات محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں تبدیلیاں آنے تک یہ پالیسی برقرار رہے گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں لوگ ’حقیقی اور سنگین نقصان‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کی انسانی حقوق کی ڈائریکٹر فیونا فریزر نے اے ایف پی کو بتایا کہ لوگوں کو ’گھٹن کا باعث بننے والی ایسی پابندیوں کے مستحکم کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا ہے جو ان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو اور ان کے انسانی حقوق میں مداخلت کرتی ہیں۔‘
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے حکام کی جانب سے ’صحافت کے خلاف وحشیانہ جبر‘ پر تنقید کی۔ کمیٹی کے مطابق میڈیا کارکنوں کی ’نگرانی کی گئی، انہیں حراست میں لیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سنسرشپ کی گئی یا انہیں جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔‘
طالبان حکومت کے اقدامات سے خواتین خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ انہیں پارکوں سمیت عوامی مقامات پر جانے اور زیادہ تر ملازمتیں کرنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔
23 سالہ ایک خاتون نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’گہری گھٹن‘ محسوس کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’یہ پانچ سال اس قدر کٹھن رہے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں 500 سالہ خاتون ہوں، ایسی خاتون جو مر بھی نہیں سکتی۔‘