پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے سنیچر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتینجہ رہا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے رات گئے صحافیوں سے گفتگو میں اس کی تصدیق کی ہے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کسی قسم کے انتشار کی کوشش کو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ’مذاکرات میں ہم نے اپنے مطالبات سامنے رکھے۔ لانگ مارچ اور انسداد دہشت گردی سے متعلق ہماری بات چیت ہوئی ہے تاہم کئی چیزوں پر اتفاق ہوجاتا ہے اور کئی پر نہیں ہوتا۔‘
خان صاحب تک رسائی، ان کے ساتھ ملاقات، ان کا علاج اور ان کے ساتھ جیل میں سلوک ہمارا مسئلہ تھا۔ دہشت گردی سے متعلق معاملات پر بات ہوئی۔ یہ بھی کوسش کی کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن اور جمہوری انداز میں ہو۔ ہم لانگ مارچ کو اسلام آباد تک لانا چاہتے تھے تاکہ ہمارے مطالبات کو سنا جائے۔
انہوں نے بتایا ’ہم نے ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق خبروں پر بھی تفصیلی بات کی۔ اس پر تحفطات تھے۔ اگر آئین اور قانون کے ماروا کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو یہ عوام کی منشا اور صوبے کے مینڈیٹ کی توہین ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’طویل نشست کے بعد اب بھی چند چیزوں پر ڈیڈ لاک ہے۔ کچھ الفاظ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں۔ چاہے وہ ہماری یا حکومت کی جانب سے ہوں۔‘
’ابھی تک توڈیڈ لاک ہے۔ بات چیت کے نئے دور پر بھی اتفاق نہیں ہوا تاہم کچھ چیزوں پر بات چیت ہوسکتی ہے۔ واٹس ایپ یا فون پر تجاویز کا تبادلہ کریں گے۔ اگربات آگے بڑھی تو ایک اور دور کل یا پرسوں ہونے کی توقع ہے۔‘
ایک سوال پر انہوں نے کہا ’لانگ مارچ منسوخ یا موخر نہیں کیا گیا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے بھی یہ بات کی ہے۔‘
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے بتایا ’بنیادی بات امن وامان اور دہشت گردی کے حوالے سے کے پی کے حالات ہیں۔‘
’وفاق کا موقف ہے صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات ہمیں قبول نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بانی سے ملاقات اورعلاج کے معلامات چھوٹی باتیں تھیں۔ ہم نے یقین دلایا تھا کہ قانون اور جیل مینیوئل کے مطابق پہلے بھی عمل ہو رہا ہے اور اب بھی ہوگا۔ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’دہشت گردی کے خلاف ایشو سے کس صورت پیچھے نہییں ہٹا جا سکتا۔ یہ ملک اور انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے تیارہوں تو وہ کل یا پرسوں آجائیں ہم بات کے لیے تیارہیں۔‘
خبیر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’حالات کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جا ئے گا۔‘
قبل ازیں حکومتی وفد کی رکن اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ تمام مسائل جمہوری انداز میں حل ہوں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی میز پر جگہ دینے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ تنازعات کو زیر غور لایا جائے، تاہم ہر کوئی اپنی پارٹی پوزیشن پر بات کر سکتا ہے مگر مذاکرات کی اندرونی باتوں پر عام گفتگو نہیں ہونی چاہیے۔
سہیل آفریدی کے موقف پر طارق فضل کا ردعمل
ایک طرف جہاں پارلیمنٹ میں مذاکرات کا عمل تھا، وہیں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے اپنے سخت سیاسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت ہے اور آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے لیے چار اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے پُرامن احتجاج کا آغاز کیا جائے گا۔‘
انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور وفاق کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ملٹری آپریشنز مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران خطہ سیاحت کے لیے جانا جاتا تھا نہ کہ دہشت گردی کے لیے۔‘
سہیل آفریدی کے اس بیان پر حکومتی وفد کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر سہیل آفریدی کی پوسٹ پر اپنے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت مذاکرات کو بامقصد بنانا چاہتی ہے لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایسے بیانات اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘
طارق فضل چوہدری نے تحریک انصاف کی قیادت پر زور دیا کہ ’مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے اجتناب کیا جائے جس سے یہ عمل نقصان کا شکار ہو۔‘