سعودی عرب: اقامہ، لیبر اور بارڈر قوانین کی خلاف ورزیاں، 14 ہزار 542 افراد گرفتار
مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع ٹول فری نمبر پر دی جا سکتی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قوانین کی خلاف ورزیوں پر 14 ہزار 542 افراد کو گرفتار کیا جبکہ 12 ہزار 945 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ’6 سے 12 اگست 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار 216 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 843 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 483 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار457 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 67 فیصد ایتھوپین، 32 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مزید 19 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 22 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے ’جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
مکہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
