صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی جیرڈ کشنر کی قاہرہ میں غزہ امن مذاکرات کے ثالثوں سے ملاقات
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ تیز ہوگئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچیوں نے اتوار کو قاہرہ میں مصری، قطری اور ترک ثالثوں سے ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد غزہ کے لیے امریکی صدر کے امن منصوبے پر پیش رفت کی کوشش کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فضائی حملے جاری ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے ایلچی اور ان کے داماد جیرڈ کشنر اور غزہ کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملادینوف کے ساتھ ہونے والی بعض ملاقاتوں میں حماس کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔
ایک علاقائی عہدیدار اور حماس کے ایک رہنما نے کشنر اور حماس کی غزہ قیادت کے سربراہ خلیل الحیہ کے درمیان ایک غیر معمولی ملاقات کی بھی تصدیق کی ہے۔
کشنر پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ نیتن یاہو پہلے ہی ٹرمپ کے تازہ غزہ امن روڈ میپ کو ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔
ٹرمپ کے منصوبے میں غزہ میں فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ، حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا اور علاقے کی نئی فلسطینی سول انتظامیہ کے تحت تعمیرِ نو شامل ہے۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ تیز ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق خان یونس اور نصیرات میں اسلامی جہاد اور حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کے طبی حکام کے مطابق ایک حملے میں خیموں کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی زخمی ہوئے، جبکہ خان یونس کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک شخص بعد میں دم توڑ گیا۔ نصیرات میں ایک اپارٹمنٹ پر الگ فضائی حملے میں بھی کئی افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے قاہرہ میں مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد سے ملاقات کی تھی۔ حماس کے مطابق الحیہ ثالثوں کو جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے آگاہ کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے امن منصوبے پر اسرائیل اور حماس دونوں نے اتفاق کیا ہے، تاہم حماس کا مؤقف ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے، فوج واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہے۔