دبئی-تل ابیب پرواز گرانے کی کوشش کے پیچھے کون ہے، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے: نیتن یاہو
جمعرات 1 اکتوبر 2026 9:05
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل واقعے کی تحقیقات میں شامل ہو سکتا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کے پیچھے کون تھا، اس بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم اسرائیل ممکنہ طور پر واقعے کی تحقیقات میں شامل ہو سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینٹی‘ میں انٹرویو کے دوران جب اسرائیلی وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا واقعے میں ایران کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی شواہد سامنے آئے ہیں؟
اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ کرنے والے پائلٹ سے سعودی عرب میں تفتیش کی جا رہی ہے، اس لیے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں حملہ آور پائلٹ کو متحدہ عرب امارات لے جایا جائے گا جہاں سے وہ روانہ ہوا تھا۔ ہم تحقیقات پر نظر رکھیں گے اور ممکنہ طور پر ان میں شامل ہو سکتے ہیں۔‘
خیال رہے بدھ کو متحدہ عرب امارات سے تل ابیب کے لیے اڑان بھرنے والی فلائی دبئی کی پرواز میں کاک پٹ کے اندر لڑائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور طیارے کا رخ موڑتے ہوئے اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتار لیا گیا تھا۔
بعدازاں اسرائیلی وزیراعظم کے دعوے کے علاوہ بھی ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ ایک پائلٹ نے دوسرے پر چاقو پر حملہ کیا اور وہ طیارے کو گرانا اور مسافروں کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔
تاہم انڈیا سے تعلق رکھنے والے پائلٹ سمت مچھر نے زخمی ہونے کے باوجود وہ بٹن دبایا جس سے کاک پٹ کا درواز کھل گیا اور لوگوں نے اندر آ کر حملہ آور کو قابو کیا۔
بعدازاں مسافروں کو دوسرے جہاز کے ذریعے تل ابیب کے لیے روانہ کر دیا گیا تھا جو بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔
