Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مراکش کی پہلی خاتون وزیراعظم فاطمہ زہرا المنصوری کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (پی اے ایم) نے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے (فوٹو: وی آر ٹی نیوز)
مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے منگل کے روز شہری منصوبہ بندی کی وزیر فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ 50 سالہ وکیل فاطمہ زہرا المنصوری مسلم دنیا کی اِس مملکت کی تاریخ میں وزیراعظم کا منصب سنبھالنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق شاہی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق فاطمہ زہرا المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ان کی نامزدگی کا اعلان انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے چار روز بعد کیا گیا۔ فاطمہ زہرا المنصوری کی جماعت آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (پی اے ایم) نے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ وہ اپنی نامزدگی تک مملکت کے شہر مراکش کی میئر بھی تھیں۔
فاطمہ زہرا المنصوری عرب دنیا میں تیونس کی نجلا بودن کے بعد وزیراعظم بننے والی دوسری خاتون ہیں۔ توقع کی کا رہی ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت تشکیل دیں گی۔ مراکش کے انتخابی نظام کے تحت کسی ایک جماعت کے لیے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل ہے، چنانچہ حکومت سازی کے لیے اتحادی جماعتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
فاطمہ زہرا المنصوری کی حکومت کو اب سال 2030 میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ سے متعلق اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی اُن کی حکومت سے اب مہنگائی پر قابو پانے، اُجرتوں میں اضافہ کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدے پورے کرنے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔
مراکش کے آئین کے تحت بادشاہ ملک کی سب سے بااختیار شخصیت کے طور پر وزیراعظم مقرر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، تاہم انہیں پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت میں سے ہی وزیراعظم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
یہ تبدیلی سال 2011 میں عرب بہار کے تحت خطے میں انقلابی لہر کے تحت مظاہرین کی کامیاب جدوجہد کے باعث آئین میں شامل کی گئی تھی۔ اس سے قبل بادشاہ کو کسی پابندی کے بغیر وزیراعظم مقرر کرنے کا اختیار حاصل تھا۔
فاطمہ زہرا المنصوری نے سال 2008 میں آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی کے قیام کے وقت ہی اس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ جماعت بادشاہ کے بچپن کے دوست اور قریبی مشیر فواد علی الہمتہ نے قائم کی تھی۔
فرانس کی مون پلیے یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی فاطمہ زہرا المنصوری سال 2024 میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں شامل ہوئیں۔ وہ دو مرتبہ مراکش شہر کی میئر رہ چکی ہیں اور پارلیمان کی رکن بھی رہی ہیں۔
وہ مملکت کے شہر مراکش کے معروف مقامی عہدیدار عبدالرحمان المنصوری کی بیٹی ہیں جنہیں ’پاشا آف مراکش‘ بھی کہا جاتا تھا۔
ان کے والد متحدہ عرب امارات میں مراکش کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ مراکش شہر کی بار ایسوسی ایشن کے سربراہ رہے اور ان کے پاس زمینوں کی ملکیت بھی تھی۔

فاطمہ زہرا المنصوری عرب دنیا میں تیونس کی نجلا بودن کے بعد وزیر اعظم بننے والی دوسری خاتون ہیں (فوٹو: زرین ٹی وی)

فاطمہ زہرا المنصوری کو مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔ نامعلوم ہیکرز کے ایک گروپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے مراکش شہر میں زمینوں کے لین دین کے معاملے میں اپنے عہدے کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
فاطمہ زہرا المنصوری نے اِن الزامات کو ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے اِن کی تردید کی اور قانونی کارروائی بھی کی۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں رجسٹرڈ ایک کروڑ 58 لاکھ ووٹروں میں سے قریباً 10 لاکھ نے آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی کو ووٹ دیا۔ جماعت کے قیام کے بعد یہ اس کی پہلی انتخابی کامیابی ہے۔
یہ انتخابات جولائی کے سیوتا ہجرت بحران اور گزشتہ سال نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ہلاکت خیز احتجاج کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔
بادشاہ کی جانب سے فاطمہ زہرا المنصوری کو وزیراعظم نامزد کیے جانے کے بعد اب توجہ اس سیاسی اتحاد پر مرکوز ہوگئی ہے جو اگلی حکومت تشکیل دے گا۔
آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم بعض جماعتوں نے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں معتدل اسلام پسند جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اور بائیں بازو کی فیڈریشن آف ڈیموکریٹک لیفٹ شامل ہیں۔

شیئر: