حماس کے وفد اور مصر کے خفیہ ادارے کے سربراہ کی غزہ منصوبے پر بات چیت
حماس نے جولائی کے اواخر میں کہا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار ایک نئی تشکیل پانے والی تکنیکی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک وفد نے اتوار کے روز مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد سے ملاقات کی، جس میں جنگ کے بعد غزہ کے لیے بنائے گئے منصوبے پر عمل درآمد اور آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اے ایف پی نے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
حماس نے جولائی کے اواخر میں کہا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار ایک نئی تشکیل پانے والی تکنیکی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، جو صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی جانب سے اعلان کردہ 15 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام سنبھالنے والی ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے عہد کیا ہے کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کا انخلا نہیں ہوگا۔
یہ وفد ہفتے کی شام مصر پہنچا، جس سے قبل ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کشنر کے خطے کے دورے کی توقع ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ بحیرۂ روم کے ساحلی شہر العریش کے قریب واقع العلمین میں ہونے والے مذاکرات میں ’مذاکرات میں تازہ ترین پیش رفت اور اسرائیل کو معاہدے کی پابندی پر مجبور کرنے کی کوششوں‘ پر بات ہوگی۔ اس معاہدے میں 15 نکاتی روڈ میپ بھی شامل ہے، جس پر عمل درآمد شروع کرنا مقصود ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ’وفد مصری حکام کو جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرے گا، جبکہ الحیہ اس تحریک کے عزم اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے آمادگی پر زور دیں گے، جیسے ہی اسرائیل اس کے لیے اپنی وابستگی کا اعلان کرے گا۔‘
حماس کے ایک اور ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ کشنر کے اس ہفتے مصر کے دورے کے دوران حماس کے مذاکراتی وفد، بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نِکولے ملادینوف اور امریکی حکام کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں معاہدے سے متعلق رکاوٹوں پر بات چیت ہوگی۔
ذریعے نے مزید کہا کہ مصری، قطری اور ترک ثالثوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاکہ ’اسرائیل کو معاہدے کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے۔‘
کشنر رواں ہفتے اسرائیل اور مصر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دورے کا مقصد غزہ کے اس منصوبے پر موجود اختلافات ختم کرنے کی کوشش کرنا ہے جسے نیتن یاہو نے مسترد کر دیا ہے۔