متحدہ عرب امارات میں تعینات اسرائیلی سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ دبئی میں فلائی دبئی کی پرواز کے دوران چاقو سے حملے کے واقعے میں ملوث مشتبہ شخص عمان کا شہری ہے۔
حملہ آور کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی اور اِس بارے میں بھی بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں کہ دورانِ پرواز اس نے اپنے ایک ساتھی پر چاقو سے حملہ کیوں کیا؟
متحدہ عرب امارات کے حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اماراتی پبلک پراسیکیوشن نے فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آنے والے واقعہ کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یہ پرواز سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے کی طرف موڑ دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں
-
فلائی دبئی طیارہ واقعہ: متحدہ عرب امارات نے تحقیقات شروع کر دیںNode ID: 908997
متحدہ عرب امارات کے مطابق تحقیقات میں یہ جائزہ بھی لیا جائے گا کہ آیا یہ واقعہ دہشت گردی کی سرگرمی تھا، پیشگی منصوبہ بندی کی گئی تھی یا یہ کسی کی ہدایت پر پیش آیا؟
حکام نے کہا کہ تحقیقات کا اختیار متحدہ عرب امارات کو حاصل ہے کیونکہ طیارہ اسی ملک میں رجسٹرڈ ہے اور اسی کے پرچم کے تحت پرواز کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے سعودی حکام کے تعاون اور صورتِ حال سے نمٹنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے جمعرات کو اس واقعے کی تحقیقات شروع کیں۔
اماراتی اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے پرواز FZ1073 میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے پراسیکیوٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔ یہ پرواز بدھ کے روز بحفاظت تبوک ایئرپورٹ پر اتری تھی۔
تحقیقات کا آغاز فلائی دبئی کے اس بیان کے بعد ہوا جس میں ایئرلائن نے بتایا تھا کہ دورانِ پرواز کاک پٹ کے اندر ایک جھگڑا ہوا، جس کے بعد طیارے کے دیگر عملے نے مداخلت کرتے ہوئے صورتِ حال پر قابو پالیا اور یوں کاک پٹ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر قابو پا لیا۔
’وام‘ کے مطابق پراسیکیوٹرز نے متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں کے تعاون سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دہشت گردی سے ممکنہ تعلق کا بھی جائزہ لیا جائے گا
حکام واقعے کے حالات اور اِس کے محرکات کا تعین کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
اماراتی اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے عوام سے اپیل کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ اِن کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے حقائق سامنے لائے جانے تک واقعے سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کی جائیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر گرانے کی ناکام کوشش کا ماسٹرمائنڈ کون تھا؟ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل ممکنہ طور پر اِس واقعے کی تحقیقات میں شریک ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو کا یہ بیان اس سوال کے جواب میں سامنے آیا کہ آیا واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ ملا ہے یا نہیں؟
دوسری جانب انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں فلائی دبئی کے انڈین پائلٹ سمت مچھڑ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ’ہیرو‘ قرار دیا۔
پائلٹ کی جانب سے بے پناہ بہادری کا مظاہرہ
نریندر مودی نے کہا کہ ’پائلٹ نے انتہائی سنگین خطرے اور شدید زخمی ہونے کے بعد بھی بے پناہ بہادری اور دوسروں کی جانیں بچانے کے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ اُن کی بہادری نے سینکڑوں جانیں بچانے اور ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں مدد دی۔‘
زخمی کپتان سمت مچھڑ سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت اب مستحکم ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی سمت مچھڑ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق وہ اُس وقت زخمی ہوئے جب اُن کے معاون پائلٹ نے اُن پر حملہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاون پائلٹ نے طیارے کو تباہ کرنے اور اس میں سوار تمام افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔













