سعودی عرب اور پاکستان سمیت اسلامی ملکوں کی اسرائیل کی جانب سے غزہ منصوبہ مسترد کیے جانے کی مذمت
اسرائیل کی جانب سے فلسطیینی ریاست کو مسترد کیے جانے کی بھی مذمت کی گئی ( فوٹو: روئٹرز)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ملکوں نے اسرائیل کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کیے جانے کی مذمت کی ہے جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں توثیق کی گئی تھی۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب، مصر، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، اردن اور قطر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس موقف سے فلسطینی سرزمین میں جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی امن کوششوں کو خطرہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کو مسترد کیے جانے کی بھی مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی موقف امریکی تجویز کردہ منصوبے پر عملدرآمد،غزہ اور باقی مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی وسیع تر کوششوں پر عمل درآمد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
تنازع ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی جس میں زمینی صورتحال میں کسی بھی بگاڑ یا انسانی امداد، سکیورٹی انتظامات اور تعمیر نو میں تاخیر شامل ہے۔
یاد رہے کہ فلسطینی دھڑوں نے روڈ میپ کو قبول کیا ہے جسے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکہ کے ساتھ غزہ کے لیے اعلی نمائندے اور بورڈ آف پیس کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔

اس میں حماس سمیت مسلح گروہوں سے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی فوج کے انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی،غزہ کا انتظام قومی کمیٹی کے سپرد کرنے اور علاقے کی تعمیرنو پر زور دیا گیا تھا۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ منصوبہ مسترد کیے جانے سے جنگ کے خاتمے اور دیرپا تصفیے کے حوالے سے ٹرمپ کی کوششیں پٹری سے اتر سکتی ہیں۔
انہوں نے منصوبے میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنانے اور مزید رکاوٹوں کو روکنے کے لیے مسلسل امریکی انگیجمنٹ کی ضرورت پر زور دیا۔

وزرائے خارجہ نے روڈ میپ پر فوری اور مکمل عملدرآمد ٖپر زور دیا اور کہا کہ غزہ کے سنگین انسانی بحران سے نمنٹے، سلامتی اور استحکام کی بحالی اور تعمیر نو و بحالی کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔
مشترکہ بیان میں دو ریاستی حل کی سپورٹ کا اعادہ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پائیدار امن صرف 1967 کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور یہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے عین مطابق ہو۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے یا انکار کرنے کی کسی بھی کوشش کو رد کیا جس میں یکطرفہ اقدامات شامل ہیں۔ ایسے اقدامات پورے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو کمزور کریں گے۔

بیان میں بورڈ آف پیس کے مسلسل کردار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ روڈ میپ کو آگے بڑھانے اور ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت میں امن کونسل کے کردار کی حمایت کریں۔
وزرائے خارجہ نے بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ امریکہ کی فعال سپورٹ اور انگیجمنٹ کے ساتھ اپنے مینڈیٹ کے تحت فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، جامع منصوبے کی سالمیت کو برقرار رکھے اور کسی بھی فریق کو اس پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے سے روکے۔
