پاکستان کے ساتھ مسائل بات چیت اور سفارت کاری سے حل ہو سکتے ہیں: افغان وزیرِ خارجہ
افغان طالبان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو متاثر کرنے والے مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ’سیاسی تفہیم‘ کی تلاش کے بجائے صرف فوجی زبان استعمال کر رہا ہے اور اس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔
تاہم پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ اس نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
امیر خان متقی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے ٹرانزٹ روٹس، مہاجرین اور طلبہ کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے اور استحکام کو چیلنج کرنے کے لیے سرحد کے قریب ہزاروں مسلح اہلکار جمع کر لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نہ تو پاکستان کے ساتھ مسائل کو ’ایک دوسرے پر الزامات اور پروپیگنڈے کی جنگ‘ بنانا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے ’طویل کرنے کا نیا ذریعہ‘ تلاش کر رہا ہے۔
تاہم، افغان وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ کابل کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف دفاعِ خود اختیاری کو اپنا قانونی اور ناقابلِ تردید حق سمجھتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس حوالے سے جب پاکستان کی وزارتِ خارجہ، فوج اور وزیراعظم کے دفتر سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
افغان وزیرِ خارجہ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ماضی کے دوست اور اب حریف بن جانے والے ان دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی میں شدت آئی ہے۔
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان عسکریت پسندی کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ان عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں جب کہ طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے عسکریت پسندی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتی ہے۔
