Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلائی دبئی کے پائلٹ نے ملازمت ملنے سے قبل ہی حملے کا منصوبہ بنایا تھا: اسرائیلی حکام

سورسز کے مطابق شریک پائلٹ نے پرواز کو تل ابیب کے قریب بن گورین کے ایئر پورٹ پر گرانے کا منصوبہ بنایا تھا (فوٹو: اے پی)
ساتھی پائلٹ پر حملہ کرنے والے فلائی دبئی کے کپتان نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ اس نے ایئرلائن میں ملازمت حاصل کرنے سے قبل ہی منصوبہ بنا رکھا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں تحقیقات سے باخبر دو اسرائیلی حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اسی طرح ایک تیسرے سورس جس کو امارات میں ہونے والی تحقیقات کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی، کا کہنا ہے کہ عمان کی شہریت رکھنے والے کو پائلٹ نے بدھ کے روز پرواز کو تل ابیب کے قریب بن گورین کے ایئر پورٹ سے ٹکرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
سورس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ یہی پائلٹ رواں سال کے شروع میں بھی ایک پرواز تل ابیب لے جا چکا ہے اور اس وقت بھی اس کو ہائی جیک کر کے تباہ کرنے کا مںصوبہ بنایا تھا تاہم بعدازاں اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بات واضح نہیں کہ پچھلی بار اس نے اپنا مںصوبہ کیوں ترک کیا تھا تاہم سورس کا خیال ہے کہ اس پرواز میں ایک ایسا شخص سوار تھا جسے پائلٹ پہلے سے جانتا تھا اور شاید یہی وجہ ہو۔
معلومات فراہم کرنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تھی۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے حکام نے اس بارے میں فوری طور پر تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا جبکہ فلائی دبئی کی جانب سے بھی فوری طور پر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
فلائی دبئی کی پرواز کے دوران اسرائیل جانے والے جہاز کے کو پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر حملہ کیا تھا، واقعے کو متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹر جنرل نے ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا تھا۔
دو ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کو پائلٹ کا نام حمام الحمامی ہے اور وہ عمان کا شہری ہے جبکہ اسرائیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے اس کے عمان سے تعلق کی تصدیق کی ہے۔

واقعے کے بعد پرواز نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

اماراتی حکام اور فلائی دبئی کی جانب سے بھی ابھی تک پائلٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ روئٹرز ان معلومات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا۔
پائلٹ اس وقت عرب امارات کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف باضابطہ طور پر الزامات کا اعلان بھی نہیں کیا گیا جبکہ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی قانونی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے یا نہیں۔
عمان کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کو پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے تل ابیب جانے والی ایئرلائنز تلاش کرنے کے بعد سرکاری کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست دی تھی۔

منصوبے کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے انڈین پائلٹ کو ’ہیرو‘ قرار دیا گیا ہے (فوٹو: دی ہندو)

تیسرے سورس کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات تحقیقات کے حوالے سے اسرائیل کو مسلسل معلومات فراہم کر رہا ہے۔
طیارے پر 182 افراد سوار تھے اور وہ تباہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم انڈین کپتان زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب رہے جس کے بعد مسافروں اور عملے کے ارکان نے اندر جا کر حملہ آور کو قابو کر لیا۔
بعدازاں پرواز میں موجود ایک ریزرو پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے ایک ایئرپورٹ پر اتار لیا تھا۔
سعودی حکام نے حملہ آور پائلٹ کو حراست میں لیا جسے بعدازاں یو اے ای منتقل کر دیا گیا۔

شیئر: