آبنائے ہرمز کی زیادہ تر ٹریفک کا عمانی روٹ کا استعمال: رپورٹ
سمندری سفر پر نظر رکھنے والی برطانوی کمپنی کپلر نے کہا ہے کہ پچھلے دو ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 80 فیصد سے زیادہ بحری جہازوں نے عمانی روٹ کا استعمال کیا جو کہ اقوام متحدہ کا مصدقہ بحری چینل ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سی این این نے اپنی رپورٹ میں کپلر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے۔
کپلر میں خام تیل کے شعبے کے سربراہ ہمایوں فلکشاہی کا کہنا ہے کہ ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر سے جزوی طور پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ صورت حال ایک ماہ قبل کے وقت کے برعکس ہے جب عمان کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بالکل نہیں ہو رہی تھی۔‘
سی این این کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے پسندیدہ راستے پر آمد و رفت میں نمایاں کمی کے باعث بحری جہازوں سے ٹول وصول کرنے کا موقع نہیں مل رہا، جیسا کہ وہ پہلے کیا کرتا تھا۔
پکرنگ انرجی پارٹنرز کے بانی اور چیف انویسٹمنٹ آفسیر ڈین پکرنگ کا کا کہنا ہے کہ ’ایران کے ٹول وصول کرنے کے مطالبے کو مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک پسند نہیں کرتے، اس لیے عمان کے راستے کا انتخاب واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے۔‘
ایران اور عمان کے درمیان پچھلے کئی ہفتے سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے کیے گئے راستے کے جغرافیائی امور پر اتفاق ہو گیا ہے۔
خطے سے تعلق رکھنے والے دو عہدیداروں نے اے پی کو بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے مطابق بحری جہاز ایران کے کنٹرول والے راستے سے خلیج عرب میں داخل ہوں گے اور عمان کے زیرکنٹرول راستے کے ذریعے باہر نکلیں گے اور سکیورٹی کی فراہمی اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ یہ اہم راستہ تب تک نہیں کھولا جائے گا جب تک امریکہ تہران کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیتا، جن میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمد و رفت میں کمی آئی ہے کیونکہ اس کے کھلنے سے متعلق کوئی واضح اشارہ سامنے نہ آنے کے بعد زیادہ تر بحری جہاز اس اہم راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
