شام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر امریکہ اسرائیل سے ناراض
شام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر امریکہ اسرائیل سے ناراض
بدھ 19 اگست 2026 6:11
ٹام باراک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے گا (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے شام میں ایک ایئر بیس کو نشانہ بنائے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کو ملک کے شمال مغربی حصے میں ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر آٹھ حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا تاہم کسی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
ان حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کا مقصد ترک فوجیوں کی وہاں تعیناتی کو روکنا تھا۔
ترکیہ میں امریکہ کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے حملوں کے بعد ایکس پر لکھا کہ واشنگٹن کو ابو الظہور پر ہونے والے اسرائیل کے حملوں پر شدید تشویش ہے اور ان سے کشیدگی میں غیر ضروری اضافہ ہو گا جس سے خطے کا استحکام متاثر ہو گا۔
ٹام باراک کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع کی جانب سے نہ تو جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے اپنے حامی مسلح گروہوں کو برقرار رکھا ہوا ہے، بلکہ انہوں نے کئی بار اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ٹام باراک کے مطابق ’امریکہ ماضی میں بھی سفارتی کوششوں کے فروغ کے لیے مذاکرات کی میزبانی کرتا رہا ہے اور آگے بھی ایسا کرتا رہے گا۔‘
ترکیہ شام کی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور وہ شامی فوج کی مدد بھی فراہم کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے، دونوں ممالک شام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے اثر محدود کرنا چاہتے ہیں۔
بشارالاسد کی حکومت کے بعد سے اسرائیل شام پر سینکروں حملے کر چکا ہے (فوٹو: اے پی)
سعودی عرب، قطر اور مصر کی جانب سے بھی متذکرہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
شام کی وزارتِ خارجہ نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا ایک ’بلا جواز‘ حملہ قرار دیا۔ وزارت نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کرے۔
بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام کے معاملے پر اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
دسمبر 2024 میں باغی ان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
بشارالاسد کی حکومت کے بعد اسرائیل شام پر سینکڑوں حملے کر چکا ہے اور ان میں زیادہ تر شامی فوج کے ساز و سامان اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس نے جنوبی شام میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں بننے والے ایک بفر زون کا کنٹرول بھی سنبھالا تھا۔
پچھلے برس اسرائیل کے ڈرون حملوں میں دمشق کے جنوبی علاقے میں آٹھ شامی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔