Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ترک وفد کے دورے کے بعد فوری بعد اسرائیل کا شامی فوجی ہوائی اڈے پر حملہ

ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے 6 اگست کو کہا تھا کہ اسرائیل مسلسل حملوں کے ذریعے شام کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شام کے سرکاری نشریاتی ادارے الاخباریہ نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ منگل کی صبح شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے کے رن وے اوردیگر تنصیبات پر اسرائیل نے آٹھ فضائی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں مالی و مادی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایک سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ نامعلوم طیاروں نے غیر فعال ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جہاں شامی وزارتِ دفاع کی فورسز موجود ہیں۔ اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور اس کی فوج نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
شام کی وزارتِ خارجہ نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا ایک ’بلا جواز‘ حملہ قرار دیا۔ وزارت نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں۔
شام کے لیے امریکی ایلچی ٹام بارک نے کہا کہ یہ فضائی حملے غیر ضروری اشتعال انگیزی تھے۔
دی نیو عرب نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ حملے ایک ترک فوجی وفد کے ہوائی اڈے کے دورے کے فوراً بعد کیے گئے۔ یہ دورہ ہوائی اڈے کے رن ویز کی بحالی کی ابتدائی کوششوں کے سلسلے میں تھا۔ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
حملوں کا وقت اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا ہے، کیونکہ 2024 کے اواخر میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی فوجی صلاحیتوں کی ازسرِنو تعمیر میں انقرہ کا کردار بڑھ رہا ہے۔
اے ایف پی کو ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ادلب صوبے میں واقع ابو الظہور کی یہ تنصیب ترک سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر (43.5 میل) کے فاصلے پر ہے اور 2012 سے غیر فعال ہے۔ شام کی خانہ جنگی کے دوران اسے شدید نقصان پہنچا تھا اور اس وقت یہ شامی وزارتِ دفاع کی فورسز کے تحفظ میں ہے۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام کی نئی انتظامیہ ملک کی مسلح افواج کی ازسرِنو تعمیر کی کوشش کر رہی ہے۔ اگست کے اوائل میں شام نے شمالی علاقے میں روسی ساختہ مگ-21 لڑاکا طیاروں کے ذریعے فضائی مشقیں کیں، جو بشار الاسد کی معزولی کے بعد اس نوعیت کی پہلی مشقیں تھیں۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے 11 اگست کو رپورٹ کیا کہ اسرائیلی سکیورٹی حکام نے شام کی جانب سے اپنی فضائیہ کی ازسرِنو تعمیر کی کوششوں کا سراغ لگایا ہے، جن میں پائلٹوں کی بھرتی، پروازوں کی تربیت اور لڑاکا طیاروں کو شامل کرتے ہوئے پہلی مشق کا انعقاد شامل ہے۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے 6 اگست کو کہا تھا کہ اسرائیل مسلسل حملوں کے ذریعے شام کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ شام کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دے گا جو شام کی فوجی صلاحیتوں کو اس طرح مضبوط کریں کہ اسرائیل کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہو۔
اسرائیل نے الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا دی ہے، جس میں گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی اور شامی فورسز کو جدا کرنے والے اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی بفر زون میں فوجی دستوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ دمشق نے ان دراندازیوں کی بارہا مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کشیدگی کے باوجود اسرائیل اور شام کی نئی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں اور دونوں نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا ایک طریقۂ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

شیئر: