Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ کی تعمیرِ نو حماس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل، ترکیہ، مصر اور قطر کی اسرائیلی حملوں کی مذمت

ثالث ممالک نے عالمی برادری اور بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنانے اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔(فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے جمعرات کو کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتی جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔
عرب نیوز کے مطابق دوسری جانب ترکیہ، مصر اور قطر نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کی دوبارہ شدت کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید کشیدگی امریکی امن منصوبے پر عملدرآمد کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، حالانکہ ایسی فورس کو غزہ میں استحکام لانے کی کوششوں کا حصہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق روڈ میپ پر عملدرآمد تعطل کا شکار ہے، حالانکہ ٹرمپ نے جولائی کے آخر میں مذاکرات میں پیش رفت کو ‘بڑی پیش رفت‘ قرار دیا تھا۔
حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس روڈ میپ کو قبول کرتی ہے، تاہم اس نے اس پر عملدرآمد کو اسرائیلی فوج کے انخلا اور اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے مشروط کر رکھا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیے جانے سے قبل غزہ کی تعمیرِ نو شروع نہیں کی جا سکتی۔
ترکیہ، مصر اور قطر نے جمعرات کو حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ تینوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملوں میں اضافہ ایسے نازک وقت میں علاقائی اور عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
تینوں ممالک کے مطابق غزہ تنازع ختم کرنے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں، جن میں بورڈ آف پیس اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ‘تعمیری‘ پیش رفت ہو رہی ہے۔
ثالث ممالک نے عالمی برادری اور بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنانے اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کانگریس کو مطلع کیا کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کی مدد کے لیے 20 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

شیئر: