ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس، پرنس ہیری اور میگھن، رواں ماہ برطانیہ واپس آ کر رہائش اختیار کرنے والے ہیں، تاہم برطانوی وزیر اعظم اینڈی کہا ہے کہ ان کی سکیورٹی کے اخراجات کا ایشو ‘نجی معاملہ‘ ہے۔
بدھ کی شب ہیری اور میگھن کی امریکہ سے برطانیہ واپسی کے منصوبے کی خبر سامنے آنے پر بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کنگ چارلس کو بھی اس فیصلے سے صرف تین روز قبل آگاہ کیا گیا تھا۔
مغربی یارکشائر کے دورے کے دوران صحافیوں نے برطانیہ کے وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا حکومت اس جوڑے کی سکیورٹی کا انتظام اور اخراجات برداشت کرے گی۔ وزیراعظم نے جواب دیا کہ ‘یہ ایک نجی معاملہ ہے۔ یہ ہیری اور میگھن کا معاملہ ہے اور ہم ان کی نئی زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
یہ جوڑا 2020 میں کیلیفورنیا منتقل ہو گیا تھا، تاہم اب لندن سے باہر ایک غیر شاہی رہائش گاہ میں اپنا گھر بنانے کے لیے برطانیہ واپس آ رہا ہے۔
پرنس ہیری برطانیہ میں اپنی اور اپنے خاندان کی سکیورٹی کے حوالے سے وزارتِ داخلہ کے ساتھ طویل قانونی جنگ لڑ چکے ہیں۔ 2020 میں شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے بعد ان کی سرکاری سکیورٹی کی سطح تبدیل کر دی گئی تھی۔
جون کے آخر تک ہیری سکیورٹی کے حوالے سے خطرات کا جائزہ لینے والے بورڈ کے فیصلے کے منتظر تھے۔ اسی دوران وہ اور ان کی نجی سکیورٹی ٹیم جولائی میں برطانیہ کے دورے کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہے تھے۔
برطانیہ واپسی پر ان کی سکیورٹی کے انتظامات سے متعلق مزید کوئی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
ہیری اور میگھن اپنے دو بچوں، پرنس آرچی، سات سال، اور شہزادی للی بیٹ، پانچ سال، کے ہمراہ اگست کے آخر میں برطانیہ منتقل ہونے والے ہیں۔ بچوں کا پہلے ہی ایک برطانوی سکول میں داخلہ کرایا جا چکا ہے۔
گزشتہ ماہ سسیکس جوڑے نے گلوسٹر شائر میں واقع ہائی گروو میں کنگ چارلس سے ملاقات بھی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ ذاتی حیثیت میں اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے موقع کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم ہیری اور میگھن کی حیثیت نجی افراد کے طور پر تبدیل نہیں ہوگی۔
سسیکس جوڑے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پرنس ولیم اور شہزادی کیتھرین کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ہیری اور میگھن کی جانب سے برطانیہ چھوڑنے کے بعد ولیم، چارلس اور کیملا پر ہونے والی تنقید کے باعث پرنس ولیم اور ان کے بھائی کے درمیان تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں۔
بی بی سی کے سابق نمائندہ برائے شاہی خاندان پیٹر ہنٹ نے کہا کہ اس جوڑے کی واپسی نے مستقبل کے بادشاہ ولیم کو ‘شدید غصے‘ میں مبتلا کیا ہوگا۔
ہنٹ کے مطابق طویل مدت میں سسیکس جوڑے کی برطانیہ واپسی سے "دو حریف شاہی درباروں" کا امکان پیدا ہو سکتا ہے،ایک ولیم کا اور دوسرا ہیری کا۔ تاہم مختصر مدت میں اس واپسی سے ہیری کو اپنے والد کے ساتھ تعلقات مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا اور ولیم کے لیے اپنے بھائی کے ساتھ صلح سے گریز کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ہیری اور میگھن کو شاہی فرائض میں "آدھے اندر، آدھے باہر" کردار کی پیشکش نہیں کی جائے گی۔ ملکہ الزبتھ دوم نے 2020 میں سینڈرنگھم اجلاس کے دوران اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس میں ان کی شاہی خاندان سے علیحدگی کی شرائط طے کی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں نے سینئر شاہی حیثیت سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کی اور شاہی خطابات کا استعمال بھی چھوڑ دیا۔
سسیکس جوڑا کیلیفورنیا کے شہر مونٹیسیٹو اور پرتگال میں اپنی رہائش گاہیں برقرار رکھے گا، جبکہ میگھن اپنی لائف سٹائل برانڈ As Ever کو برطانیہ میں اپنے نئے مرکز سے چلانا جاری رکھیں گی۔











