اسرائیلی ای ون آباد کاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ، سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ ملکوں کا بیان
یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت دیگرعرب اور مسلم ملکوں نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک انتہائی حساس علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
یاد رہے اسرائیلی وزارت تعمیرات و ہاؤسنگ نے منگل کو یروشلم کے مشرق میں ای ون علاقے میں ایک ہزار 200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں۔
اس زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گی جس سے ایک متصل فلسطینی ریاست کا قیام نا ممکن ہو جائے گا۔
اس اقدام سے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم بھی ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے جسے فلسطینی اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
ایس پی اے اور عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی مسلسل غیر قانونی آباد کاری کی پالیسیوں کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی۔
مشرقی یروشلم کے مشرق میں ای ون آباد کاری کے منصوبے اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کو مکمل طور پر مسترد کیا اور اسے فوری طور پر روکنے پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’یہ منصوبہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی کی نمائندگی کرتا ہے جو مزید آباد کاری میں توسیع اور الحاق کو آگے بڑھانے باعث بنے گا۔ خصوصا مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان مقبوضہ فلسطینی علاقے کے جغرافیائی تسلسل کو نقصان پہنچائے گا۔‘
’یہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، متصل فلسطینی ریاست کے قابل عمل ہونے اور اس کے قیام کو خطرے میں ڈالتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘
مشترکہ بیان میں کہا گیا ’یہ منصوبہ امن کے حصول کے لیے بین الاقوامی کوششوں خصوصا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کے لیے براہ راست چیلنج ہے جس میں الحاق اور جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا۔‘
یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے کے عزم کو بھی چیلنج کرتا ہے جس کا مقصد استحکام کا حصول اور اس تنازع کا خاتمہ ہے۔
بیان میں علاقے میں اسرائیل کی دیگر غیر قانونی آباد کاری کی پالیسیوں کی مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ اسرائیلی قابض حکام کی سپورٹ سے آباد کاروں کی جانب سے فلسطیینوں اور ان کی املاک کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیوں اور تشدد کی کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ایسی کارروائیاں فلسطینوں کے ناقابل تنسیخ تاریخی حقوق کو کسی بھی طرح کم نہیں کر سکتیں۔ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے غیرقانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کے ذمہ دار اداروں، افراد، انہیں مدد اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کا بھی مطالبہ کیا۔
