’پانچ کروڑ روپے دیے گئے‘، وراٹ کوہلی کی پریمانند مہاراج سے ملاقات پر تنازع
’پانچ کروڑ روپے دیے گئے‘، وراٹ کوہلی کی پریمانند مہاراج سے ملاقات پر تنازع
بدھ 7 اکتوبر 2026 11:35
وراٹ کوہلی اہلیہ کے ہمراہ پریمانند مہاراج کے آشرم کے دورے کر چکے ہیں (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا کے سٹار کرکٹر وراٹ کوہلی کی مذہبی پیشوا پریمانند مہاراج سے ملاقات کے بعد اس دعوے پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کرکٹر نے اس ملاقات کے لیے پانچ کروڑ روپے وصول کیے۔
انڈین ٹریبیون کے مطابق یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد پریمانند مہاراج کی تشہیر اور مقبولیت کو بڑھانا تھا۔
دوسری جانب وراٹ کوہلی کے ترجمان نے پیسوں کی وصول کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’بالکل جھوٹ، بے بنیاد اور حقائق کے منافی‘ قرار دیا ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کرشن جنم بھومی سنگھرش نیاس کے صدر دنیش شرما جن کو فلاحاری مہاراج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ جنوری 2023 میں جب وراٹ کوہلی نے پہلی بار ورندان آشرم آئے تھے اس سے قبل انہیں لانے کے معاملے پر پانچ کروڑ خرچ یا پھر پیش کیے گئے تھے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دنیش شرما نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھے گئے خط میں یہ دعویٰ کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ راجستھان کی ایک نجی کمپنی اور پراپرٹی بلڈرز کا ایک گروپ اس میبنہ ادائیگی کے پیچھے تھا اور کرکٹر کو وہاں لانے اور میڈٰیا پر دکھائے جانے کا مقصد پریمانند مہاراج کی تشہیر کے ساتھ ساتھ ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ کرنا تھا۔
تاہم دوسری جانب وراٹ کوہلی کے ترجمان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹر کی پریمانند مہاراج سے ملاقاتوں کی وجہ روحانی پیشوا پر ان کا ’گہرا یقین اور عقیدت‘ ہے۔
وراٹ کوہلی کے ترجمان نے الزامات کی تردید کی ہے (فوٹو: انڈین میڈیا)
انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسے الزامات کو نشر کرنے یا آگے بڑھانے سے پہلے معلومات کی تصدیق کرائے۔
وراٹ کوہلی اپنی اہلیہ انوشکا شرما سمیت کئی بار ورندان میں رہنے والے روحانی پیشوا کے آشرم کے دورے اور ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
دونوں پہلی بار جنوری 2023 میں اپنی بیٹی وامیکا کے ہمراہ وہاں پہنچے تھے، اس ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھیں۔
2025 میں میاں بیوی نے آشرم کا ایک اور دورہ کیا تھا جبکہ اسی سال مئی میں کرکٹر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد بھی ایک ملاقات ہوئی۔
اگرچہ ان ملاقاتوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تاہم ابھی تک ایسا کوئی معاہدہ، رسید، دستاویز، لین دین کا ریکارڈ یا ادائیگی سے متعلق کوئی اور ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
اس کے باوجود بھی یہ الزام تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل رہا ہے اور اس بارے میں صارفین مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’جن کا نام بڑا ہوتا ہے ان کو بدنام کرنے کی کوشش بھی بہت ہوتی ہیں اور آخر میں جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔‘