Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بین الاقوامی برادری القدس میں اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات رکوائے: عرب، اسلامی وزرائے خارجہ

مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں 14 نکات پر اتفاق کیا گیا ہے ۔( فوٹو: ایس پی اے)
اُردن نے بدھ کو القدس اور مقدس مقامات کے تحفظ کے حوالے سے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کی میزبانی کی ہے۔
عمان میں منعقدہ اجلاس میں عرب وزرائے خارجہ کے ساتھ ترکیہ، پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم کی صورتحال، شہر کی شناخت اور مسجد اقصی کی حیثیت کو نشانہ بنائے جائے والے اسرائیلی اقدامات کے جواب میں متفقہ موقف کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
 اجلاس کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں 14 نکات پر اتفاق کیا گیا۔ مقبوضہ القدس کی عرب، اسلامی اور مسیحی شناخت، قانونی اور آبادیاتی حثیت تبدیل کرنے کے لیے اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کی مذمت کی گئی۔
مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مشرقی القدس مقبوضہ فلسطینی سرزمین جزو ہے، جس پر اسرائیل کی کسی قسم کی خُود مختاری کوتسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
اجلاس نے اس موقف کی توثیق کی کہ مشرقی القدس 4 جون 1967 کی سرحدوں پر قائم آزاد، خود مُختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے۔ فلسطین کے مسئلے کے پُرامن اور دو ریاستی حل کے لیے  نیویارک اعلامیے کی حمایت کی گئی۔

مسجد الاقصی میں اسرائیلی خلاف ورزیوں، تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی۔ آباد کاروں، انتہا پسند اسرائیلی وزرا اور عہدیداروں کے بڑھتے ہوئے حملوں، نمازیوں کی آمد پر پابندی، القدس کے اوقاف کی انتظامیہ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور مسجد الاقصی کے نیچے اور اطراف میں جاری غیرقانونی کھدائیوں کو قابل مذمت قرار دیا گیا۔
 اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ 144 دونم پر مشتمل مسجد الاقصی کا پوار احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اردن کی وزارت اوقاف کے ماتحت اوقاف القدس ہی اس کے انتظام اور وہاں داخلے کو منظم کرنے کی واحد مجاز و قانونی اتھارٹی ہے۔
اجلاس نے القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات پر اردن کی تاریخی سرپرستی کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے، مقدسات کے تحفظ، اسلامی اور مسیحی شناخت کو برقرار رکھنے اور ان کی تاریخی و قانونی حیثیت کے لیے دفاع کے لیے اہم قرار دیا۔

مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ القدس میں اسلامی مقدسات پر اسرائیلی حملے دنیا بھر کے تقریبا دو ارب سے زیاد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کرتے ہیں اور مذہبی تصادم پیدا کرسکتے ہیں جس کے اثرات خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ القدس اور مقدس مقامات میں اسرائیل کے تمام غیر قانونی اقدامات فوری طور پر رکوانے کے لیے موثر کارروائی کرے۔
اجلاس نے آئندہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلی سطح اجلاس کے موقع پر او آئی سی اور عرب لیگ کا مشترکہ وزارتی اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا۔

علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے وزراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب، بیت المقدس میں اسلامی اورمسیحی مقدس مقامات کی سرپرستی اور شہر کی تاریخی شناخت کے تحفظ کے حوالے سے اردن کے تاریخی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔‘
ایس پی اے کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا ’سعودی عرب ان تمام خلاف ورزیوں کو مسترد کرتا ہے جن کا مقصد القدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت، شناخت اور اس کے اسلامی و مسیحی تشخص کو تبدیل کرنا ہے۔‘
’مذہبی آزادی کے بیانیے کو ایسے اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش کو قبول نہیں، جس کا مقصد شہر میں نئے سیاسی اور قبضے پر مبنی حقائق مسلط کرنا ہو۔‘
بن فرحان نے مزید کہا ’سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پرعمل درآمد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم مملکت غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘
 انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’القدس، جو دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے، اسے امن اور بقائے باہمی کا شہر ہونا چاہیے۔‘

 

شیئر: