Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جدہ دو کمروں اور ایک سیلون جتنا‘: پرانے شہر کی کہانیاں تلاش کرتے نوجوان فنکار

اس نمائش میں تمام ساتھیوں کا مل کر تیار کردہ کام بھی شامل ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سات نوجوان فنکاروں نے ’ٹائم ریفلیکٹڈ آن واٹر‘ کے عنوان سے نمائش میں جدہ کی تاریخ، یادوں اور بحیرۂ احمر سے شہر کے تعلق کو فن پاروں کے ذریعے اجاگر کیا ہے۔ یہ نمائش 2026 کے ’ریسس‘ پروگرام میں شامل فنکاروں کے انفرادی اور اجتماعی فن پاروں پر مشتمل ہے جس کا انعقاد حی جمیل کے ’حی ایکسپلوررز‘ میں کیا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق نمائش 17 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ 15 سے 17 برس کے عمر کے شرکا کے لیے یہ پروگرام اس شہر کو مزید قریب سے جاننے کا ایک موقع تھا جس سے وہ پہلے ہی واقف تھے۔
نور ابراہیم نے بتایا کہ اس پروگرام نے انہیں جدہ سے جڑے مختلف طبقوں اور تاریخ کو مزید قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدہ کے مختلف دروازوں اور ان تمام جگہوں کی بڑی تنوع کے بارے میں جاننا بہت دلچسپ تھا جہاں سے زائرین اور تاجر آیا کرتے تھے۔
ریڈ سی میوزیم اور ریڈ وِنڈ کورل ورلڈز کی نمائش کے دورے نے میری آنکھیں اس ثقافتی ملاپ کی طرف کھولیں جو جدہ کو منفرد بناتا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ ان کی پیشکش کا سب سے ذاتی حصہ ان کا پورٹ فولیو تھا جس میں اس پروگرام کے دوران بنائے گئے خاکے، تجربات، تحقیق اور تحریریں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’نمائش میں اسے پیش کرتے ہوئے میں کسی حد تک گھبرا رہی تھی کیونکہ یہ میری سوچ کے عمل کو براہِ راست دکھانے جیسا تھا، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ کسی پروجیکٹ کے مکمل ہونے سے پہلے اس کے تمام مراحل کو دیکھ پانے کی اپنی ایک اہمیت ہے۔‘
الما حوا کے لیے اس پروگرام نے جدہ کے لوگوں کے درمیان قریبی تعلق کو ظاہر کیا۔ البلد اور دارۃ صفیہ بن زقر کے دوروں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سی باتیں تھیں لیکن ایک بات یہ ہے کہ جدہ واقعی کتنا چھوٹا اور آپس میں جڑا ہوا ہے۔

یہ نمائش 17 اکتوبر تک جاری رہے گی (فوٹو: عرب نیوز)

ایک عام کہاوت جو میں نے شروع سے آخر تک بار بار سنی وہ یہ تھی کہ ’جدہ دو کمروں اور ایک سیلون جتنا ہے‘، جو اس وقت اور بھی سچی ثابت ہوئی جب میں بھی لوگوں کو پہچاننے لگی۔ الما کا کام ذاتی یادوں سے بھی جڑا ہے جس میں ان کے دادا کے بارے میں تحریر اور غم کا تجربہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والوں کو یہ بات یاد رہے گی کہ اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کے بارے میں مزید جاننا کتنا اہم ہے۔
لیان الشخصیر نے کہا کہ ’ریسیس‘ نے انہیں جدہ کے نام پر دوبارہ غور کرنے پر ابھارا۔ ’جدہ میرے لیے ہمیشہ صرف جدہ ہی تھا لیکن اس کے نام کے ممکنہ ماخذوں کے بارے میں جاننا جس میں جدہ یعنی دادی اور جد یعنی سمندر کا کنارہ کے حوالے شامل ہیں نے مجھے اس شہر کو ایک الگ نظر سے دیکھنے پر مجبور کیا۔‘
ان کا حتمی پروجیکٹ پروگرام کے دوران کافی حد تک بدل گیا کیونکہ وہ اس طریقے سے پیچھے ہٹ گئیں جو زراعت کی تاریخ پر بہت زیادہ مرکوز تھا اور وہ اپنے اصل فنکارانہ مقصد کی طرف واپس آئیں۔

اس ٹیم کا کام جدہ کی ثقافتی تاریخ، یادوں اور روایتوں سمیت متعدد دلچسپیوں کی عکاسی کرتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

 انہوں نے کہا کہ ’اس تجربے نے مجھے سکھایا کہ آغاز تسلی بخش نہ ہونے اور ہمت ہارنے کا دل چاہنے کے باوجود آپ کو دوبارہ کوشش کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ آپ کو کہاں لے جاتی ہے۔ کبھی کبھی ایک مشکل آغاز آپ کو اس سے بھی بہتر خیال اور نتیجہ دکھاتی ہے جس کا آپ نے کبھی تصور کیا ہوتا ہے۔‘
حی جمیل میں لرننگ پروگرام کی سربراہ سحرش ایس علی نے کہا کہ طلبہ نے تین ماہ کے دوران آرٹ کے حوالے سے اپنے انداز میں اسی طرح پیشرفت کی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ذہنی طور پر اس ٹیم نے آرٹ کو ایک سادہ خوبصورتی کے تصور کے بجائے گہری سوچ اور باریک بینی کا عمل سمجھنا شروع کیا۔
پروگرام کے تعلیمی ڈھانچے کے ذریعے ہم چاہتے تھے کہ نوجوان یہ سمجھیں کہ تحقیق کرنے اور کچھ بنانے کا عمل اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے جتنا کہ حتمی نتیجہ، اور حتمی نمائش اسی کی عکاسی کرتی ہے۔‘

الما حوا کے لیے اس پروگرام نے جدہ کے لوگوں کے درمیان قریبی تعلق کو ظاہر کیا (فوٹو: عرب نیوز)

پروگرام میں شامل فنکاروں کے کام میں جدہ کی ثقافتی تاریخ، زراعت، یادوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات سمیت مختلف موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں ان ساتوں شرکا کا مل کر تیار کردہ کام بھی شامل ہے جس میں ’ایکسپیڈیشن مینی فیسٹو‘ شامل ہے جو پروگرام کے آغاز میں ان کی قدروں پر ہونے والی گفتگو سے تیار کردہ ایک مشترکہ اعلان ہے۔
ان کے لیے اس سائیکل کا سب سے اہم پہلو طلبہ کو ایک دوسرے سے سیکھتے ہوئے اپنی انفرادی دلچپسیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے دیکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بطور اساتذہ اور مینٹورز ان سے اتنا ہی سیکھا ہے جتنا انہوں نے ہم سے سیکھا۔‘

 

 

شیئر: