Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرحدی تنازع: انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول مذاکرات کے لیے چین میں

وزارت خارجہ کے مطابق اجیت ڈوول چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے بھی ملاقات کریں گے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول پیر کو متنازعہ ہمالیائی سرحد کے معاملے پر چین کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیجنگ پہنچ گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اگلے ماہ ہونے والے برکس سربراہ اجلاس سے قبل نئی دہلی کو امید ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
انڈین وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول منگل کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے مذاکرات کریں گے۔
وزارت کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اور چین کے سرحدی تنازع کے لیے انڈیا کے خصوصی نمائندے ڈوول آج سہ پہر دو روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے۔‘
وزارت خارجہ کے مطابق اجیت ڈوول چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے بھی ملاقات کریں گے۔
2020  میں ہونے والی ایک مہلک جھڑپ کے بعد سے دونوں ممالک کے حکام  اپنے سرحدی تنازع پر مذاکرات کے لیے متعدد بار ملاقات کر چکے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس ملاقات میں دونوں فریق دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی روح کے مطابق سرحدی مسئلے پر تفصیلی بات چیت جاری رکھیں گے اور سرحدی علاقوں میں امن و سکون کے مشترکہ تحفظ کے لیے کام کریں گے۔‘
دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور ماضی میں دونوں ایک دوسرے پر علاقے پر قبضہ کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت نے رواں ماہ کے آغاز میں انڈین میڈیا کی ان رپورٹس پر ’گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ جولائی کے اواخر میں شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں انڈین اور چینی فوجی گشت کے دوران دونوں ممالک کے فوجیوں کا آمنا سامنا ہوا۔ تاہم انڈین حکومت نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا تھا۔
چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ریاست اس کے علاقے کا اٹوٹ حصہ ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار رہنے کے باوجود باہمی تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے، جس میں براہِ راست پروازوں اور سرحدی تجارت کی بحالی بھی شامل ہے۔
 12 اور 13 ستمبر کو برکس اجلاس انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں ہوگا، جس میں مشرقِ وسطیٰ، تجارت اور بدلتے ہوئے عالمی نظام کے اہم موضوعات پر نمایاں طور پر گفتگو متوقع ہے۔
 

شیئر: