Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں انوکھا احتجاج، شہری کتے کی شکل کا ماسک پہن کر سماعت میں پہنچ گیا

انڈین شہری کتے کا ماسک پہن کر اپوزیشن لیڈر کے ہمراہ عوامی شکایات کی سماعت میں پہنچ گیا۔(فوٹو:ویڈیو گریب)
انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوا میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کے خلاف انوکھا احتجاج کیا گیا، جہاں ایک شہری کتے کا ماسک پہن کر میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر کے ہمراہ عوامی شکایات کی سماعت میں پہنچ گیا۔
انڈین اخبار فری پریس جرنل کے مطابق منگل کو کھنڈوا میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر دیپک راٹھور نے کلکٹر کو یادداشت پیش کرکے آوارہ کتوں کی نس بندی پر خرچ ہونے والی رقم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
دیپک راٹھور نے دعویٰ کیا کہ میونسپل کارپوریشن نے گزشتہ چار برس میں کتوں کی نس بندی پر تقریباً 40 لاکھ روپے خرچ کیے، لیکن آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔
دیپک راٹھور کے مطابق گزشتہ چار برس میں قریباً 13 ہزار 225 افراد کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے جس کے باعث بچوں، خواتین، بزرگوں اور دیگر شہریوں میں خوف پایا جاتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود آوارہ کتوں کی تعداد اور کاٹنے کے واقعات میں کمی کیوں نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آوارہ کتوں کی تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ شہریوں کی حفاظت کا معاملہ بھی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے آوارہ کتوں کی نس بندی کے کام کا مالی اور تکنیکی آڈٹ کرانے اور ٹینڈر کے عمل، کام کرنے والی کمپنی کی اہلیت اور متعلقہ دستاویزات کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران کتے کا ماسک پہنے شخص کے ذریعے علامتی انداز میں یہ پیغام دیا گیا کہ ’یہ بہت وفادار ہیں، لیکن اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کے نام پر مبینہ کرپشن ہو رہی ہے۔‘
راٹھور کا کہنا تھا کہ تمام آوارہ کتوں کی نس بندی نہیں کی گئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نس بندی کیے گئے کتوں کی اصل تعداد، ان کی شناخت، ادائیگیوں اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے موقعے پر جا کر کام کی تصدیق کا بھی مطالبہ کیا۔
دیپک راٹھور نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی نااہل کمپنی کو قواعد کے خلاف ٹھیکہ دینے یا نس بندی کے کام میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تو متعلقہ افسران اور کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب ایڈیشنل کلکٹر کاشی رام بادولے نے کہا کہ عوامی سماعت کے دوران موصول ہونے والی شکایت کی تحقیقات کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں بے ضابطگی سامنے آنے اور کسی کو ذمہ دار پائے جانے کی صورت میں قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
 

شیئر: