Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ نسل کشی پر تنقید، اسرائیل نے دو سوئیڈش ارکانِ یورپی پارلیمان کو ملک میں داخلے سے روک دیا

اسرائیلی محکمہ آبادی و امیگریشن نے وزیر خارجہ گیڈون ساعر کی درخواست پر یورپی پارلیمان کے دو ارکان کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔
عرب نیوز کے مطابق سوئیڈش لیفٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے یورپی ارکانِ پارلیمان یونس شوستیدٹ اور حنا گیڈین کو اتوار کی شب اسرائیل کا سفر کرنے سے قبل داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
شوستیدٹ نے اپنے فیس بک پیج پر کہا کہ انہیں’غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر تنقید اور اس کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی انصاف کے کٹہرے میں لانے‘ کی حمایت کرنے کی وجہ سے روکا گیا۔
2025  میں اسرائیلی کنیسٹ نے ملک میں داخلے سے متعلق قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ایسے افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی جو اسرائیلی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات غیر ملکی عدالتوں میں چلانے کی عوامی حمایت کرتے ہیں۔
دونوں یورپی ارکانِ پارلیمان کا مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کا دورہ کرنے کا منصوبہ تھا، جہاں وہ ’سیو دی چلڈرن‘ کے کارکنوں، فلسطینی پناہ گزین کیمپوں اور اسرائیلی و فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں، سمیت فلسطینی اتھارٹی کے حکام سے ملاقاتیں کرنے والے تھے۔
حنا گیڈین نے فیس بک پر کہا کہ ’اسرائیلی حکومت ان بچوں سے ہماری ملاقاتوں سے خوفزدہ ہے جنہوں نے بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے ناقدین کو اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ صحافیوں، امدادی تنظیموں اور مبصرین کو بھی غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
گیڈین اور شوستیدٹ ان تازہ ترین غیر ملکی حکام میں شامل ہیں جنہیں اسرائیل میں داخلے سے روکا گیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے ناقدین کے خلاف بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں۔
اسرائیل اب بھی غیر ملکی صحافیوں کو فلسطینی ساحلی پٹی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا، جہاں اس نے 2023 کے اواخر سے فوجی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں کم از کم 73,420 فلسطینی ہلاک اور 174,369 زخمی ہو چکے ہیں۔

شیئر: