’سکرپٹڈ، فاتح پہلے سے طے‘، عدنان صدیقی نے ’تماشا‘ پر لگنے والے الزامات کا جواب دے دیا
’سکرپٹڈ، فاتح پہلے سے طے‘، عدنان صدیقی نے ’تماشا‘ پر لگنے والے الزامات کا جواب دے دیا
پیر 24 اگست 2026 19:06
عدنان صدیقی نے کہا کہ تماشا کسی طے شدہ سکرپٹ کے تحت نہیں چلتا (فوٹو: تماشا، یوٹیوب)
پاکستان کے مشہور ریالیٹی شو ’تماشا‘ سیزن فائیو اس وقت جاری ہے اور شو کے حوالے سے ناظرین سمیت سابق اور ایلیمنیٹ ہونے والے کنٹسٹنٹس کی جانب سے مختلف سوالات اور الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
اب شو کی ٹیم نے ملیحہ رحمٰن کے ساتھ گفتگو میں ان الزامات پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
شو کے میزبان عدنان صدیقی نے ایئر پیس کے ذریعے ہدایات ملنے سے متعلق الزامات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیم کی جانب سے بعض معاملات سے آگاہ کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسی چیزوں کے بارے میں جو وہ شو کے دوران دیکھنے یا نوٹس کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں خود بھی شو کے تمام معاملات پر نظر رکھتا ہوں، ویسے مجھے زیادہ ہدایات کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘
عدنان صدیقی نے شو کے فاتح کے انتخاب سے متعلق بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یا اے آر وائی کی ٹیم کسی بھی کنٹسٹنٹ کو فاتح نہیں بنا سکتی۔‘ ان کے مطابق فاتح کا فیصلہ مکمل طور پر عوامی ووٹنگ کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ناظرین اپنے پسندیدہ کنٹسٹنٹ کو ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یوٹیوب پر کسی کنٹسٹنٹ کا نام کمنٹ کرنا ووٹ دینے کے مترادف نہیں ہے۔‘
شو کے سکرپٹڈ ہونے کے الزامات پر بات کرتے ہوئے عدنان صدیقی نے کہا کہ ’تماشا کسی طے شدہ سکرپٹ کے تحت نہیں چلتا بلکہ یہ کنٹسٹنٹس کے عمل اور ردعمل پر مبنی شو ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گھر میں 18 مختلف ذہن موجود ہوتے ہیں، اس لیے شو کو سکرپٹ کے مطابق چلانا ممکن نہیں۔ شو کے واقعات اور کنٹسٹنٹس کے درمیان ہونے والے معاملات قدرتی انداز میں سامنے آتے ہیں۔‘
عدنان صدیقی نے سابق کنٹسٹنٹس کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’شو کی ٹیم عام طور پر ان الزامات کا جواب نہیں دیتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جمہوری معاشرے میں ہر شخص کو اپنی رائے دینے کی آزادی حاصل ہے، تاہم اگر ٹیم ہر الزام اور تنقید کا جواب دینا شروع کر دے تو یہ ان کے معیار کے مطابق نہیں ہوگا۔‘