Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یروشلم: فرانسیسی راہبہ پر تشدد کرنے والا اسرائیلی آبادکار مقدمے سے بری

عدالت نے شریبر کو ایک نفسیاتی ہسپتال میں زیرِ علاج رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (سکرین گریب)
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں یروشلم کے قدیم شہر کے قریب ایک فرانسیسی راہبہ پر حملہ کرنے والے اسرائیلی آبادکار کو حملے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کی یہودی بستی پدوئیل سے تعلق رکھنے والے یونا شریبر کو بدھ کے روز یروشلم کی ایک عدالت نے نفسیاتی معائنے کے بعد فوجداری ذمہ داری سے بری قرار دے دیا۔
یروشلم مجسٹریٹ کورٹ کے جج اوفیر ٹشلر نے اپنے فیصلے میں شریبر کو بری کرتے ہوئے ماہرِ نفسیات کی گواہی کو تسلیم کیا کہ حملے کے وقت اسرائیلی آبادکار نفسیاتی کیفیت میں مبتلا تھا اور اسے اپنے کیے کا شعور نہیں تھا۔
عدالت نے شریبر کو ایک نفسیاتی ہسپتال میں زیرِ علاج رکھنے کا حکم دیا ہے۔
سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں شریبر کو فرانسیسی راہبہ کی جانب پیچھے سے دوڑتے ہوئے، اسے دھکا دے کر زمین پر گراتے اور پھر بار بار لاتیں مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی اسکول آف بائبلیکل اینڈ آرکیالوجیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر اولیویے پوکیوں نے بتایا کہ متاثرہ راہبہ اس ادارے میں محقق تھیں۔
مذہبی گروہوں کے مطابق عیسائی زائرین اور مذہبی پیشواؤں کے ساتھ ساتھ فلسطینی مسیحی باشندوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں حملے اور تھوکنے جیسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں اکثر انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند یہودی ملوث ہوتے ہیں۔
 

شیئر: