یروشلم میں راہبہ پر حملہ کرنے والا مشتبہ شخص گرفتار: اسرائیلی پولیس
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کر دی گئی ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)
اسرائیل پولیس نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے یروشلم شہر میں ایک راہبہ پر حملہ کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بدھ کو ڈیوڈ کے مقبرے کے قریب ایک راہبہ کو دھکا دے کر گرایا گیا جس کو چوٹ چوٹ لگی، واقعے کے بعد اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ایک نامعلوم شخص کو ’نسلی بنیاد پر کیے گئے حملے کے شک‘ میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں حملہ کرنے والے شخص کو ایک جھالر دار لباس پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ایسا ہی لباس کچھ یہودی مرد بھی استعمال کرتے ہیں۔
فرینچ سکول آف آرکیالوجیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر اولیور پوکویلن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ متاثرہ راہبہ اسی ریسرچ سکول میں کام کرتی ہیں۔ انہوں نے واقعے کو ’فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائی‘ قرار دیا۔
مشرقی یروشلم کا یہ علاقہ صدیوں پرانا ہے جو ہزاروں سال کی تاریخ رکھتا ہے اور یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات یہاں موجود ہیں۔
ہولی لینڈ کرسچن فورم کے کوآرڈینیٹر ویڈی ابوناصر نے واقعے کو مسیحیوں کے خلاف تشدد کا بڑھتا رجحان قرار دیا، انہوں نے حملہ آور کے پکڑے جانے کے حوالے سے کہا کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اس کی ریکارڈنگ ہو گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ’سسٹم پر سخت غصہ اور دکھ‘ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ جلدی ختم نہیں ہو گا۔
ان کے مطابق کئی ایسے واقعات کے بعد کوئی گرفتاری نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو بعض اوقات ایک یا دو روز بعد ہی مشتبہ افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کچھ معاملات میں پولیس پراسیکیوشن کو الزامات درج کرنے یا فرد جرم عائد کرنے کی سفارش نہیں کرتی اور اگر کبھی فرد جرم عائد ہو بھی جائے تو وہ کافی نرم ہوتی ہے۔‘
یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اسرائیلی رویوں کے حوالے سے جانچ جاری ہے۔
کچھ روز قبل اس وقت بھی اسرائیل کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک فوجی نے حضرت عیسیٰ کے مجسمے پر حملہ کیا تھا۔