Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کی سزائے موت روکنے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں امریکہ سے جنگ شروع ہونے سے قبل بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو دی جانے والی سزائے موت پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کی پھانسیوں کا سلسلہ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں لکھا کہ ’ایران کی حکومت اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو تنخواہیں نہیں دے پا رہی۔‘
انہوں ںے مزید کہا کہ ’دوسری جانب ایرانی حکومت مظاہرین کو، حتیٰ کہ وہ اس وقت جب احتجاج بھی نہیں کر رہے، پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں قتل کر رہی ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے مزید لکھا کہ ’یہ ایک انتہائی سنگین انسانی بحران ہے جسے فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔‘
یہ واضح نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان کوئی نئی معلومات سامنے آنے کے بعد دیا ہے یا پُرانی معلومات کو ہی بنیاد بنایا ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں پھانسیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ سے چند ہفتے قبل ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جنہیں حکومت نے طاقت کے ذریعے ختم کردیا تھا۔
ایران میں مہنگائی اور ضروریاتِ زندگی کے اخراجات میں اضافے کے خلاف مظاہروں کا آغاز دسمبر 2025 کے آخر میں ہوا تھا، اور بعد ازاں حکومت مخالف ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہوگئے۔ یہ مظاہرے 8 اور 9 جنوری 2026 کو انتہائی شِدت اختیار کر گئے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق ‘ان واقعات میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم ایران نے تشدد کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے مبینہ ’دہشت گردی کے اقدامات‘ کو قرار دیا۔‘
دوسری جانب بیرونِ ملک قائم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں مارے جانے والے مظاہرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی ہے اور الزام لگایا ہے کہ ’ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی گئی۔‘
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں 30 سے زیادہ ممالک نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کر کے ایران کی جانب سے مظاہرین کو دی جانے والی پھانسیوں اور سزائے موت کی سخت مذمت کی۔
امریکہ میں اگرچہ سزائے موت اب بھی قانونی ہے، تاہم اُس نے اِس مشترکہ خط پر دستخط نہیں کیے۔ اس خط کے بعد بھی ایران میں کم سے کم تین مزید افراد کو مظاہروں سے متعلق الزامات میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

شیئر: