صدر احمد الشرع نے شام کے دہشت گردی کے ریاستی معاونین کی فہرست سے اخراج اور عالمی مالیاتی نظام میں واپسی کا اعلان دمشق میں ایک ادائیگی مشین (پی او یس) پر کافی کی قیمت ادا کرتے ہوئے کیا۔
عرب نیوز کے مطابق جمعرات کی صبح جاری کردہ ایک ویڈیو میں الشرع نے ویزا کارڈ کے ذریعے کافی کی قیمت ادا کی جب وہ ملک کے مرکزی بینک کے گورنر صفوت رسلان کے ساتھ بیٹھے تھے۔
مزید پڑھیں
-
شامی صدر احمد الشرع کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقاتNode ID: 897056
رسلان نے یہ ویڈیو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’شام کو دہشت گردی کے ریاستی معاونین کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد صدر احمد الشرع کے ساتھ بیٹھ کر ویزا کارڈ کے ذریعے پہلی ادائیگی میرے لیے ایک ایسا احساس ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔‘
پیر کو امریکہ نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 47 سال بعد شام کو اس فہرست سے نکال دیا، جس سے عرب ملک کو اس نامزدگی کے شدید معاشی نتائج سے آزادی ملی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’آج کا اقدام شام میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دے گا تاکہ سیاسی اور معاشی استحکام کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘
أن نشهد هذه اللحظة مع فخامة السيد الرئيس أحمد الشرع @AH_AlSharaa وأن تتم أول عملية دفع باستخدام ببطاقة فيزا @Visa في قلب دمشق في اليوم التالي لرفع اسم سوريا من قائمة الدول الراعية للإرهاب، هو بالنسبة لي شعور يصعب اختصاره بالكلمات
بداية جديدة نحمل فيها الكثير من الأمل و المسؤولية pic.twitter.com/xbH7Kge9Re— Safwat Raslan (صفوت رسلان) (@SafwatRaslan) August 26, 2026
الشرع کی قیادت میں باغیوں نے دسمبر 2024 میں 13 سالہ تباہ کن خانہ جنگی کے بعد طویل عرصے سے حکمران بشار الاسد کو معزول کر دیا تھا۔
الشرع نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’شام نے ایک سیاہ داغ کو جھاڑ دیا ہے اور اپنے ماضی کے ایک تکلیف دہ باب کو پھاڑ کر ترقی، تعمیر نو اور بحالی کے راستے پر گامزن ہوا ہے۔‘












