پمز آتشزدگی: تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار، ہسپتال میں انکیوبیٹرز کی کمی
جمعرات 27 اگست 2026 15:32
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز میں آتشزدگی کے واقعے کے دوسرے روز بھی آج فضا سوگوار ہے، جہاں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے تھے۔
بیشتر بچوں کی تدفین کر دی گئی ہے، تاہم لواحقین آج بھی ہسپتال کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب، وزیراعظم کی قائم کردہ اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی کل صبح تک اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی، جس میں آتشزدگی کی وجوہات اور ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی۔
حادثے کے بعد اسلام آباد کے پمز چلڈرن ہسپتال میں آج بھی غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایک طرف اہم شخصیات کے دورے جاری ہیں تو دوسری جانب میڈیا کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔
پمز کے دردناک حادثے میں اپنی نوزائیدہ بیٹی سے محروم ہونے والے ایبٹ آباد کے مدثر زہراب کی مشکلات ختم نہ ہو سکیں، اور وہ آج بھی ہسپتال کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد سے اب تک ہسپتال انتظامیہ نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کی بچی وقت سے پہلے پیدا ہوئی تھی اور انکیوبیٹر میں اس کی حالت سنبھل رہی تھی۔ وہ اپنی بچی کو ڈاکٹروں کے سپرد کر کے گئے تھے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہاں آگ لگنے سے اس کی جان چلی جائے گی۔
مدثر کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے بچی کی میت بھی ان کے حوالے نہیں کی بلکہ ایک پولیس اہلکار نے لاش ان تک پہنچائی۔ وہ ایبٹ آباد میں تدفین کے بعد آج واپس آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف وزیراعظم آفس سے ایک فون آیا تھا کہ وزیراعظم ان سے ملنا چاہتے ہیں، مگر جب انہوں نے بتایا کہ وہ ایبٹ آباد میں ہیں تو دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
آتشزدگی کے بعد انتظامیہ کی مشکلات
پمز کے چلڈرن وارڈز اور گائنی نرسری کے متاثر ہونے سے ہسپتال انتظامی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ نرسری جلنے کے باعث نوزائیدہ بچوں کو منتقل کرنے کے لیے انکیوبیٹرز کی کمی کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
تاہم پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ وارڈز اور نرسری کے متبادل انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نو زائیدہ بچوں اور دیگر مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔
مریضوں کو شکایات
دوسری طرف، پمز چلڈرن ہسپتال آنے والے مریض اور ان کے لواحقین انتظامی عدم توجہی کا رونا رو رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ہسپتال میں شدید رش اور ابتری کے باعث ان کا بروقت اور صحیح علاج ممکن نہیں ہو پا رہا۔
دوسری جانب نئے تعینات ہونے والے سیکرٹری صحت کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد محمود نے پمز ہسپتال کے باہر ایک عارضی کیمپ قائم کیا ہے، جس میں وہ پمز کے سٹاف سے بھی بریفنگ لے رہے ہیں اور سائلین سے بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں عارضی طور پر یہ عہدہ دیا گیا ہے لیکن جب تک وہ یہاں ہیں ان کی کوشش ہوگی کہ پمز کے حالات میں بہتری لائی جائے۔
ایک اور کمیٹی کی تشکیل
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے آج ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو صرف پمز کی بہتری اور اس کی نگرانی کے لیے کام کرے گی۔
ان کا کہنا تھا روزانہ آدھا گھنٹہ وزارتِ صحت میں دینے کے بعد میں ٹینٹ آفس میں بیٹھا کروں گا۔ میری پہلی ترجیح پمز کے انتظامی مسائل کو درست اور حل کرنا ہے۔
پمز میں آتشزدگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات ہائی پاور کمیٹی کر رہی ہے اور امید ہے کہ کمیٹی جلد آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کر کے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پمز کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کی کوشش کریں گے۔