’دھوئیں سے سانس لینا بھی مشکل تھا‘، پمز کے ڈاکٹر امجد علی نے دو نوزائیدہ بچوں کی جان کیسے بچائی؟
بدھ 26 اگست 2026 18:19
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کے سکول آف ڈینٹسٹری میں بطور آرتھوڈونٹسٹ خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر امجد علی نے منگل کے روز اپنی اہلیہ کو علاج کے لیے اسی ہسپتال کے گائنی وارڈ میں داخل کرایا تھا۔
بدھ کی صبح جیسے ہی ان کے فون کی گھنٹی بجی، دوسری جانب ان کی اہلیہ تھیں جو ہسپتال میں آگ لگنے کی خبر دے رہی تھیں۔
ہسپتال کے قریب ہی موجود ڈاکٹر امجد خبر ملتے ہی دوڑے چلے آئے اور اپنی جان پر کھیل کر بچوں اور مریضوں کی زندگی بچانے کا ذریعہ بنے۔
اردو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی وہ پمز پہنچے تو وہ وارڈ، جہاں کل تک زندگی معمول کے مطابق رواں تھی، شدید افراتفری کی لپیٹ میں تھا۔
ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’فضا میں دھوئیں کے گھنے بادل چھائے ہوئے تھے اور اندر قدم رکھنا بھی قریباً ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔‘
ڈاکٹر امجد کے مطابق ’ابتدائی لمحوں میں چونکہ کوئی ریسکیو اہلکار وہاں موجود نہیں تھا، اس لیے انہوں نے پہلے اپنی اہلیہ کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔‘
اس کے بعد وہ فوراً واپس پلٹے اور وہاں پھنسی نوزائیدہ بچوں کی ماؤں کو سہارا دے کر عمارت سے نیچے لائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھواں اس قدر گہرا اور شدید تھا کہ خود ان کے لیے بھی سانس لینا اور قدم بڑھانا دوبھر ہو رہا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ عزم کیا کہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ساتھ دیگر خواتین اور ان کے معصوم بچوں کو بھی باہر نکالیں گے۔
ڈاکٹر امجد نہ صرف وہاں موجود خواتین کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے میں کامیاب رہے، بلکہ انہوں نے دو نوزائیدہ بچوں کو بھی اپنے سینے سے لگا کر پمز کی دوسری عمارت تک پہنچایا، جس کے باعث ان معصوموں کی جان بچ گئی۔
ان کے مطابق جب وہ زچگی وارڈ اور نرسری کی طرف بڑھے تو دیکھا کہ عملے کے ایک دو افراد وہاں موجود تھے، جنہوں نے فائر ایکسٹنگویشر کی مدد سے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی، لیکن وہ سلنڈر اس گھنے دھوئیں اور بھڑکتے شعلوں کے آگے بے اثر ثابت ہوئے۔
ان لمحوں کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ وہ منظر لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہاں ہر طرف دَم گھٹتا دھواں اور قیامت کا سا سماں تھا، اور ہر شخص صرف اپنے اور اپنے پیاروں کی جان بچانے کی تگ و دو میں لگا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آگ بنیادی طور پر نرسری کے اندر لگی تھی، جہاں جانے کا کوئی متبادل راستہ ہی موجود نہیں تھا کیونکہ ہسپتال کا واحد مرکزی راستہ مکمل طور پر بلاک ہو چکا تھا۔
اُنہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ریسکیو اہلکاروں کو بھی اندر پہنچنے میں مسلسل دُشواری اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، اور یہی وجہ ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوا۔
ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے بھی منگل کو اپنے بچے کو اسی وارڈ میں داخل کرانا چاہتے تھے، لیکن انہیں جگہ نہ مل سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں جاننے والے شخص نے انہیں فون کر کے کہا کہ اللہ کا شکر ہے میرا بچہ وہاں داخل نہیں ہو سکا، ورنہ شاید آج میں بھی ان سوگوار والدین میں شامل ہوتا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں بدھ کو آتشزدگی کے باعث گائنی وارڈ کی نرسری میں موجود 14 نوزائیدہ بچے دِم گھٹنے سے جان سے چلے گئے۔
مرنے والے بچوں کے لواحقین نے اس المناک حادثے کا ذمہ دار ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کو قرار دیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔
