قطر کے وزیراعظم کی تہران آمد، جنگ بندی کے بعد سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش
قطر کے وزیراعظم کی تہران آمد، جنگ بندی کے بعد سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش
جمعرات 27 اگست 2026 18:57
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
قطر کے وزیراعظم جمعرات کو ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے، جہاں انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی اقدامات کو ’مکمل معاشی جنگ‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے خلیجی ہمسایہ اور امریکہ کے اتحادی قطر نے جنگ کے دوران فریقین کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قطر نے جون میں جنگ بندی کرانے میں بھی براہِ راست کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں مختصر عرصے کے لیے جنگ رک گئی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ٹیلیگرام چینل کے مطابق قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگ کو تقریباً چھ ماہ ہونے والے ہیں۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر لڑائی فی الحال رکی ہوئی ہے، تاہم سفارتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ دونوں فریق آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر اختلافات کا شکار ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور ایران اسے دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمت بھی جزوی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات کے باعث ناکام ہوئی۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع اس تنگ بحری راستے سے جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق قطر اور ایران نے ایک مرحلہ وار منصوبے پر مذاکرات کیے، جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک عارضی مشترکہ ایرانی-عمانی بحری راہداری قائم کرنا اور پانی سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنا شامل ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔
’مکمل معاشی جنگ‘
اگرچہ فضائی حملے رک گئے ہیں، تاہم واشنگٹن نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے اور پابندیوں میں اضافے کے ذریعے ایران کو اس کے تجارتی شراکت داروں سے الگ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو ’مکمل معاشی جنگ‘ کے مقابلے میں قومی اتحاد پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اندرونی اختلافات ’بالکل وہی ہیں جو دشمن چاہتا ہے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے پابندیوں کو ’غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام‘ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔ ایران 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے مختلف نوعیت کی امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
تازہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پیر کو اس راستے سے صرف 50 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزرا، جبکہ جنگ سے قبل یہاں سے تقریباً دو کروڑ بیرل یومیہ خام تیل منتقل ہوتا تھا۔
عمان اور ایران کے مذاکرات پر متضاد بیانات
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے طریقہ کار پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم بعد میں ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ دونوں ممالک اب بھی معاہدے کی تفصیلات طے کر رہے ہیں۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمت بھی جزوی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات کے باعث ناکام ہوئی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
جنگ کے دوران شدید فضائی بمباری کے نتیجے میں ایران کی روایتی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم تہران کے پاس اب بھی اتنے میزائل اور ڈرون موجود ہیں کہ وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے آبنائے ہرمز میں 70 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 19 بحری کارکن ہلاک ہوئے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران اور لبنان میں زیادہ تر ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کا اعلان شدہ مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا، ایرانی عوام کو اپنی حکومت گرانے میں مدد دینا اور تہران کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا تھا۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق منگل کو ایک نامعلوم میزائل آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بعد میں آگ بجھا دی گئی اور تمام عملہ محفوظ رہا۔
جنگ سے قبل آبنائے ہرمز آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے کھلا تھا، تاہم اس کے بعد ایران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول دباؤ اور آمدنی کے ذریعے کے طور پر برقرار رکھا ہے اور جہازوں سے کمیشن وصول کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی امریکہ مخالفت کرتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بدھ کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس کی تفصیلات پر مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے بیان سے متصادم دکھائی دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حوالے سے ’دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول نتائج‘ تک پہنچ چکے ہیں۔
محبی کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک امریکہ جون میں طے پانے والی عبوری جنگ بندی کے تحت تہران کی شرائط پوری نہیں کرتا۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، معاوضے کی ادائیگی اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔