محمد عباس کی تباہ کن بولنگ، لارڈز ٹیسٹ میں 120 رنز پر انگلینڈ کے 5 کھلاڑی آؤٹ
جمعرات 27 اگست 2026 18:29
تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کے محمد عباس کی تباہ کن بولنگ کے باعث انگلینڈ کی پانچ وکٹیں 120 رنز پر گر گئی۔
دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن تجربہ کار فاسٹ بولر عباس نے شاندار سپیل کرتے ہوئے 16 گیندوں میں صرف چار رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، جس کے نتیجے میں انگلینڈ 36 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھا۔ کپتان جو روٹ صرف چار رنز بنا سکے۔
انگلینڈ کو میدان سے باہر بھی حالیہ واقعات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، جہاں فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو ہفتے کے آخر میں ایک نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں، جس کے بعد انہیں ٹیسٹ سکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا۔
پاکستان نے گزشتہ ہفتے ہیڈنگلے میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں تمام شعبوں میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور اسے 103 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
انگلی میں انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر رہنے والے پاکستان کے واپس آنے والے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر سبز گھاس والی پچ پر انگلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی، جبکہ لندن کا ابر آلود موسم بھی پاکستانی فاسٹ بولرز کے لیے مددگار ثابت ہوا۔
36 سالہ عباس انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے باعث یہاں کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ لارڈز کے اسی میدان پر پاکستان کی آخری ٹیسٹ فتح کے دوران مین آف دی میچ قرار پائے تھے، جب 2018 میں پاکستان نے انگلینڈ کو نو وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں عباس نے آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
بارش کے باعث کھیل ایک گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہوا، تاہم عباس نے سیشن میں اپنی پہلی وکٹ ایک نسبتاً خراب گیند پر حاصل کی۔ انہوں نے ایمیلیو گے کو لیگ سائیڈ پر گیند کرائی جسے انہوں نے وکٹ کے پیچھے کھیلنے کی کوشش کی، لیکن وکٹ کیپر محمد رضوان نے شاندار ڈائیو لگاتے ہوئے ایک ہاتھ سے کیچ پکڑ لیا۔
انگلینڈ کے دوسرے بائیں ہاتھ کے اوپنر بین ڈکٹ 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ عباس کی اندر آتی ہوئی گیند پر انہیں ایل بی ڈبلیو قرار نہیں دیا گیا، لیکن پاکستان نے ریویو لیا اور فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا۔
جو روٹ کو محمد علی کی گیند پر سلپس میں کیچ ڈراپ ہونے کے بعد ایک موقع ملا، جو پاکستان کی ناقص فیلڈنگ کی ایک اور مثال تھی۔ یہی کمزور فیلڈنگ گزشتہ ہفتے لیڈز میں پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر تک پہنچانے کی ایک بڑی وجہ بنی تھی۔
انگلینڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر راب کی نے 2025-26 کی ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 4-1 سے شکست سے قبل کہا تھا کہ وکٹ کیپر کو سٹمپس کے قریب کھڑا کرکے درمیانی رفتار کی بولنگ کرنا ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
تاہم اسی طرز کی بولنگ نے انگلینڈ کو مسلسل مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ رضوان سٹمپس کے قریب موجود تھے جب عباس نے روٹ کو پیچھے سے ٹانگ پر گیند لگا کر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ روٹ صرف چار رنز بنا سکے اور فیصلہ اتنا واضح تھا کہ انہوں نے ریویو لینے کی زحمت بھی نہیں کی۔ ہیری بروک 15 رنز بنا کر محمد علی کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ ڈین لارنس 17 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔
اب سے تھوڑی دیر پہلے تک انگلینڈ نے پانچ وکٹوں پر 152 رنز بنائے تھے اور اس کے پانچ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔
جارڈن کاکس نصف سینچری بناکر جبکہ جیمی سمتھ 25 رنز بناکر کر کریز پر موجود تھے۔