سعودی وزیر خارجہ کا اسلامی یکجہتی پر زور، او آئی سی میں فلسطین پر جامع قرارداد
جمعرات 27 اگست 2026 18:28
مسجد اقصی میں بار بار کی جانے والی دراندازی کی بھی مذمت کی گئی ( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزیر خارجہ نے فلسطینی کاز کے لیے سعودی عرب کی سپورٹ جاری رکھنے کا عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مسجد اقصی میں بار بار کی جانے والی دراندازی کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصی کی زمانی یا مکانی تقسیم یا اس کی اسلامی شناخت میں کسی تبدیلی کی کس بھی کوشش کو سعودی عرب مسترد کرتا ہے۔
جدہ میں جمعرات کو ہونے والے اوآئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کے دوران انہوں نے خطے کو درپیش چیلنجوں کے درمیان اسلامی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے فلسطینی کاز اور دوریاستی حل کے حوالے سے مملکت کے اصولی موقف کو بھی دہرایا۔
انہوں نے کہا ’اسلامی کانفرنس تنظیم کو مضبوط بنانے اور علاقائی چیلنجز سے نمنٹے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب امت مسلمہ کی خدمت کے حوالے سے اوآئی سی کی کوششوں کی سپورٹ کرے گی۔‘
سعودی وزیر خارجہ نے او آئی سی کے نو منتخب سیکرٹری جنرل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں او آئی سی کے اجلاس میں ایک جامع قرار داد منظور کی گئی جس میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت اور مقبوضہ علاقوں پر اس کے غیر قانونی قبضے کی شدید مذمت کی گئی۔
قرا داد میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی زمین کی ضبطیِ، غیر قانونی بستیوں کی توسیع، آباد کاروں کے تشدد، الحاق کی پالیسی اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کیا گیا۔
قرارداد میں بین الاقوامی برادری اور او آئی سی کے رکن ملکوں پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور فلسطینی عوام کے خلاف غیر قانونی اقدامات روکنے کے لیے اپنی قانونی، سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
