بلوچستان: گوادر کی 9 خواتین انتہائی مطلوب قرار، گرفتاری میں مدد پر انعام کا اعلان، ’دہشتگردی میں استعمال ہوسکتی ہیں‘
بلوچستان: گوادر کی 9 خواتین انتہائی مطلوب قرار، گرفتاری میں مدد پر انعام کا اعلان، ’دہشتگردی میں استعمال ہوسکتی ہیں‘
جمعرات 27 اگست 2026 16:08
حُکام کے مطابق ان خواتین کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں کالعدم تنظیمیں استعمال کر سکتی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان میں گوادر سے تعلق رکھنے والی نو خواتین کو انتہائی مطلوب قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے مطلوب افراد کی فہرستیں اخبارات میں بھی شائع کی جاتی تھیں لیکن اس بار یہ سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی مگر غیر سرکاری اکاؤنٹس پر جاری ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اشتہار میں ان خواتین کی تصاویر اور دیگر تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اس اشتہار کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ اقدام سرکاری طور پر اٹھایا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ان خواتین کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں کالعدم تنظیمیں استعمال کر سکتی ہیں اسی لیے ان سے متعلق معلومات دینے پر 10 سے 15 لاکھ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔ اشتہار میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ’بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے مطلوب دہشت گردوں اور ان کے ہاتھوں استعمال ہونے والی خواتین ڈھونڈنے میں ہماری مدد کریں۔‘
اشتہار میں اطلاع دینے والوں کو نقد انعام دینے کے علاوہ ان کی شناخت خفیہ رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے کمانڈ سینٹر مکران مددگار کا نمبر 1244 بھی جاری کیا گیا ہے۔
مکران میں تعینات پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ خواتین اپنے گھروں سے لاپتہ ہیں ان میں کئی کم عمر ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں کالعدم تنظیم نے خودکش حملوں سمیت شدت پسند کارروائیوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کیا ہے اس لیے سکیورٹی فورسز انہیں تلاش کر رہی ہیں۔‘
اشتہار میں شامل خواتین کی تصاویر کے ساتھ ان کے نام، ولدیت اور پتے بھی درج ہیں۔ گوادر کے علاقے سربندر کی رہائشی عزیزاں دختر ابراہیم کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ باقی آٹھ خواتین کے سروں کی قیمت 10، 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
ان میں حنیفاں دختر شیر محمد، عائشہ دختر عبدالرشید، رقیہ دختر ولید، اقرا دختر علی مولا، آمنہ ہانی دختر عبدالرشید، حفصہ دختر اقبال، زہرہ دختر ملک محمد اور زرمن دختر واحد بخش شامل ہیں۔ ان کا تعلق ضلع گوادر کے مختلف علاقوں، سربندر، نیا آباد، کلانچی پاڑا، جیوانی اور شادی کور پسنی سے بتایا گیا ہے۔
بابر یوسفزئی کے مطابق ’مطلوب خواتین کی گرفتاری میں مدد دینے والے شہریوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق 10 سے 15 لاکھ روپے تک نقد انعام دیا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’شہری ان خواتین اور ان کے مبینہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کریں۔‘
صوبے میں اس سے پہلے بھی کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مطلوب افراد کے سروں کی قیمتیں مقرر کی جاتی رہی ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کو باقاعدہ طور پر انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہو۔
سرکاری حُکام نے اس اشتہار کی تصدیق کی ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
رواں سال فروری میں بلوچستان حکومت نے 39 افراد کو انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کے نام، تصاویر اور سروں کی قیمتیں شائع کی تھیں۔
ان میں سب سے زیادہ 25، 25 کروڑ روپے کا انعام کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے )کے سربراہ بشیر زیب اور تنظیم کے خودکش سکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کے کمانڈر رحمان گل عرف استاد مرید کے سر کی قیمت مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح محکمہ داخلہ بلوچستان مارچ 2016 میں بھی 99 افراد پر مشتمل ایسی ہی ایک فہرست جاری کر چکا ہے۔
سکیورٹی فورسز اور حکومت کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گوادر سے رکن بلوچستان اسمبلی اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر میں سکیورٹی چوکیوں پر خواتین کی تصویر کشی کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
سٹی تھانہ گوادر میں درج ایف آئی آر کے مطابق ’مولانا ہدایت الرحمان پر پشکان روڈ کی چیک پوسٹ پر سکیورٹی اہلکاروں کے کام میں مداخلت، نازیبا زبان کے استعمال اور عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘
مولانا ہدایت الرحمان نے چیک پوسٹوں پر بلوچ خواتین سے کیمروں کے سامنے پردہ ہٹا کر تصویر لینے پر شدید احتجاج کیا تھا اور اسے مقامی روایات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
انہوں نے ایک چیک پوسٹ کے باہر کھڑے ہوکر ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر جاری کیا تھا جس میں سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ چیک پوسٹ پر دھرنا دیں گے۔‘
مقدمے کے اندراج کے بعد مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ’چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل کے خلاف آواز اٹھانے پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔‘
دوسری جانب مولانا ہدایت الرحمان کے ویڈیو بیان پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کے حامی سمجھے جانے والے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دعویٰ کیا گیا کہ چیک پوسٹوں پر فیشل ریکگنیشن (چہرہ شناخت کرنے والے) کیمرے اور نظام نصب کیے گئے ہیں تاکہ مطلوب خواتین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور ان کی موجودگی کی صورت میں انہیں فوری گرفتار کیا جا سکے۔