کشمیر میں محکمہ صحت اور تعلیم میں اصلاحات لائيں گے: نومنتخب وزیر اعظم افتخار گیلانی کا اعلان
جمعہ 28 اگست 2026 10:05
فرحان احمد خان، اردو نیوز- اسلام آباد
افتخار گیلانی اپنے حلقے میں شکست کھانے کے بعد ٹیکنوکریٹ کی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے (فوٹو: مسلم لیگ ن)
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کہا ہے پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے تو کشمیر بھی پاکستان کے بغیر ادھورا ہے۔
وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اپنے پہلے خطاب میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہيں، یہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے انڈین اقدامات کی مذمت کرتے ہيں، قانون سازی سے کشمیر کو انڈیا کا حصہ نہيں بنایا جا سکتا۔
نومنتخب وزیراعظم نے اعلان کیا کہ کشمیر میں ریکروٹمنٹ کے لیے این ٹی ایس کی طرح تھرڈ پارٹی سسٹم لائيں گے۔
’آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ نہيں لیکن چیزيں بہتری کی طرف جائيں گی، ڈيجیٹل اکانومی کی طرف جائيں گے اور سکلڈ بیسڈ ایجوکیشن پر کام کریں گے۔‘
بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ محکمہ صحت اور تعلیم میں اصلاحات لائيں گے اور عوامی شکایت کے لیے ڈيجٹل سیٹزن پورٹل لانچ کریں گے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی: مظفرآباد کے بااثر خاندان سے جموں و کشمیر کی وزارت عظمیٰ تک
قبل ازیں جمعے کو قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے انتخاب میں بیرسٹر افتخاد گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کرکے وزیراعظم منتخب ہوگئے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد خان کو 14 ووٹ ملے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟
پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے بیرسٹر سید افتخار گیلانی کو پاکستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر کے نئے وزیراعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے، جو حال ہی میں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
مظفرآباد کے ایک بااثر اور سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے افتخار گیلانی نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد سے حاصل کی اور پھر اعلٰی تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے قریباً 10 برس تک اسلام آباد میں وکالت کی
ان کا خاندان خطے میں مسلم لیگ ن کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز 2011 کے عام انتخابات سے کیا جب وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر پہلی بار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پیپلز پارٹی و مسلم کانفرنس کے مضبوط انتخابی اتحاد کو شکست دی۔
اس کے بعد 2016 کے عام انتخابات میں بھی انہوں نے اپنے مدِمقابل امیدوار خواجہ فاروق احمد کو ہرا کر دوسری بار اسمبلی میں اپنی جگہ بنائی۔
سنہ 2016 کی حکومت میں انہیں محکمہ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی، جہاں بطور وزیرِ تعلیم ان کا سب سے اہم اور نمایاں قدم اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کو لازمی قرار دینا تھا تاکہ سفارش کے کلچر کا خاتمہ کر کے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں اُن کی نامزدگی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ وہ حالیہ عام انتخابات میں اپنی براہِ راست نشست پر مظفرآباد سٹی سے ناکام رہے تھے اور بعد میں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی کا حصہ بنے۔
براہِ راست انتخاب نہ جیتنے کے باوجود مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے اُنہیں حکومت کے اعلٰی ترین مسند یعنی وزارتِ عظمیٰ کے لیے منتخب کیا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر میں ماضی میں بھی مخصوص نشست پر رکن منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم بننے کی مثال موجود ہے جب 1991 کے انتخابات میں مسلم کانفرنس نے دوتہائی اکثریت حاصل کی تو سردار عبدالقیوم صدارت سے استعفیٰ دے کر علماء و مشائخ کی نشست پر رکن اسمبلی بنے اور پھر انہیں وزیراعظم منتخب کیا گیا۔
